ایران مظاہرے

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی مظاہروں میں ہلاک فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے گذشتہ سال مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں ہلاک شدہ سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔

ابراہیم رئیسی نے یہ ملاقات جمعہ کے روز مہسا امینی کی موت کی پہلی برسی کے موقع پر شمال مشرقی شہر مشہد کے دورے کے موقع کی ہے۔

برلن میں 28 ستمبر 2022ء کو احتجاجی مظاہرے میں ایک خاتون نے مہسا امینی کی تصویر والا پوسٹر اٹھا رکھا ہے۔ فائل تصویر
برلن میں 28 ستمبر 2022ء کو احتجاجی مظاہرے میں ایک خاتون نے مہسا امینی کی تصویر والا پوسٹر اٹھا رکھا ہے۔ فائل تصویر

واضح رہے کہ گذشتہ سال 16 ستمبر کو ایران میں خواتین کے نافذالعمل سخت ضابطہ لباس کی مبیّنہ خلاف ورزی کے الزام میں تہران کی اخلاقی پولیس نے مہسا امینی کو گرفتارکیا تھا اور تین روزبعد ان کی پولیس کی حراست ہی میں موت واقع ہوگئی تھی۔ اس ردعمل میں ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

ایران کے مختلف شہروں میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے ان مظاہروں کے دوران میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار بھی شامل تھے اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق ابراہیم رئیسی نے مقتول سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے۔تسنیم نیوزایجنسی کے مطابق ان سے ملنے والوں میں مقتول اہلکار دانیال رضا زادہ اور حسین زینال زادہ کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔

سرکاری میڈیا نے اس وقت بتایا تھا کہ رضا زادہ اور زینال زادہ حکومت نواز نیم فوجی ملیشیا بسیج کے ارکان تھے۔ وہ 17 نومبر2022ء کو مظاہروں کو روکنے کی کوشش میں مداخلت کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔

ان کی موت کا الزام ماجد رضا راہ نورد پر عاید کیا گیا تھا، جو ان سات افراد میں سے ایک تھے جنھیں بعد میں ایرانی عدلیہ نے مظاہروں سے تعلق کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی اور بعد میں انھیں پھانسی دے دی گئی تھی۔

دریں اثناء ایرنا کے مطابق ہفتے کے روز ایرانی حکام نے متعدد گروپوں کو ’’افراتفری پھیلانے کی منصوبہ بندی‘‘ کرنے اور’’دشمن میڈیا‘‘کی خدمت کے لیے مواد تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ گروپوں کا تعلق متوفیہ مہسا امینی کے آبائی صوبہ کردستان اور ایران کے شمال مغربی اور جنوبی علاقوں سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں