جنگ زدہ یمن میں سیلاب اور آسمانی بجلی گرنے سے 8 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی گورنری الحدیدہ میں سیلاب اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں آٹھ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع گورنری الحدیدہ کے ضلع اللحيہ میں ایک اسپتال کے ڈاکٹر حمزہ سعید نے بتایا کہ جمعہ کو اللحيہ اور الزہرہ میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ان میں چھے خواتین اور ایک مرد ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ علاقہ حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدہ دار نے بتایا کہ جمعہ کے روز سیلاب سے اسی گورنری میں واقع ضلع حیس میں ایک خاتون ہلاک اور درجنوں گھرتباہ ہوگئے ہیں۔

حیس جنوبی شہر عدن میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی عمل داری میں واقع ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے رواں ہفتے کے اوائل میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ شدید موسم کی وجہ سے رواں سال اب تک یمن میں دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آیندہ ہفتوں میں شدید بارشوں سے قریباً 20 لاکھ بے گھر افراد متاثر ہوں گے جس سے متعدد برادریوں کی زندگیوں اور معاش کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

گذشتہ قریباً ایک دہائی سے جاری جنگ نے جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک یمن میں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔حوثی ملیشیا نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے ردعمل میں عرب اتحاد نے اس سے اگلے سال 2015ء میں یمن میں فوجی مداخلت کی تھی اور اس سے ایک مہلک تنازع نے جنم لیا تھا۔اسے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

اپریل 2022ء میں متحارب فریقوں کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی گذشتہ سال اکتوبر میں باضابطہ طور پر ختم ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود یمن میں بڑی حد تک جنگ بندی برقرار ہے۔

حوثیوں کا ایک وفد اس جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے مذاکرات کی غرض سے جمعرات کی شب الریاض پہنچا تھا اور وہ سعودی حکام سے اس ضمن میں بات چیت کرنے والا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں