ریڈ کراس نے سیلاب زدہ لیبیا میں پانچ ہزار میّت تھیلے بھیج دیے،10 ہزارافراد ہنوز لاپتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے سیلاب زدہ لیبیا میں امدادی سامان اور ہزاروں میّت تھیلے (باڈی بیگز) بھیجے ہیں جہاں طوفان دانیال کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ابھی 10 ہزار افراد لاپتا ہیں۔

یہ طوفان 10 ستمبر کو لیبیا میں داخل ہوا تھا۔اس کے بعد سیلاب میں اب تک ہلاکتوں کے مختلف اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ لیبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم سے کم 4،000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، لیکن آزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے تین گنا ہوسکتی ہے۔

بین الاقوامی ریڈکراس نے ہفتے کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے ’’لیبیا میں پانچ ہزار’میت تھیلے‘ بھیجے ہیں تاکہ الم ناک قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور باوقار انداز میں تدفین میں مدد مل سکے‘‘۔

لیبیا کے مشرقی شہروں بنغازی اور مصراتہ میں آئی سی آر سی کی فرانزک ٹیمیں مقامی حکام اور ہلال احمر سوسائٹی کے ساتھ مل کر مرنے والوں کی تدفین کا انتظام کر رہی ہیں۔اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر شخص کو مناسب انداز میں دستاویزی انفرادی قبروں میں دفن کیا جائے تاکہ بعد میں وقتِ ضرورت ان کی قبور کی شناخت میں مدد مل سکے۔

آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فرانزک اقدامات لاپتا افرادکے اہل خانہ کی مدد کے لیے تنظیم کے کام کا حصہ ہیں۔اس آفت سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کی مدد کے لیے ادویہ، خوراک، ابتدائی طبّی امداد کی کٹس اور گھریلو سامان جیسی ضروری اشیاء بھیجی جارہی ہیں۔

مصراتہ میں آئی سی آر سی کے مالک بوزیان نے بتایا:’’ہماری ٹیمیں طبی سامان اور ’میّت تھیلے‘ ٹرکوں پر لاد رہی ہیں۔انھیں درنہ میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں تک پہنچایا جائے گا۔ اس طوفان نے ملک میں برسوں سے جاری تنازعات سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار لوگوں کو اورمتاثر کیا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ لاپتا پیاروں کی تلاش میں مصروف ہیں‘‘۔

آئی سی آر سی درنہ میں غیرپھٹے ہتھیاروں اور لاوارث گولہ بارود کی دکانوں سے لاحق ممکنہ خطرات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ رہائشیوں، ہنگامی امداد مہیا کرنے والے کارکنان اور حکام کی بہترین حفاظت کیسے کی جائے۔

قبل ازیں لیبیا میں تارکینِ وطن کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) نے جمعہ کے روزکہا ہے کہ دانیال طوفان کی وجہ سے ملک کے شمال مشرق میں واقع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں 38,640 سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

آئی او ایم نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ذرائع کے مطابق 5,000 سے زیادہ افراد کو مردہ تصور کیا جاتا ہے۔ان میں سے 3،922 اموات کا اسپتالوں میں اندراج کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے لیبیا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورت حال کو "تباہ کن" قرار دیتے ہوئے سات کروڑ دس لاکھ ڈالر سے زیادہ کے عطیات جمع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ "884،000 افراد میں سے کم سے کم 250،000 افراد کی انتہائی فوری ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

وبائی امراض پھوٹنے کا خطرہ

امدادی گروپوں نے ہفتے کے روز سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑنے کے خطرے کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے اور کہا کہ اس صورت حال میں کوئی بھی وَبا لیبیا میں انسانی بحران کو مزید ابتر کر سکتی ہے۔

درنہ سے 100 کلومیٹر مغرب میں واقع البیضاء میں مقامی لوگوں نے پہلے ہی صفائی ستھرائی کی کوششیں شروع کردی ہیں اوروہ سیلاب کی وجہ سے پھیلے ہوئے کیچڑکے ٹیلوں کو ہٹا رہے تھے۔ وہ سڑکوں اور گھروں کو بھی صاف کررہے تھے۔

دریں اثناء اسلامک ریلیف اور پیرس میں قائم طبیبان ماورائے سرحد (ایم ایس ایف) جیسی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ آیندہ وقت میں بیماریوں کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسلامک ریلیف نے سیلاب کے بعد’’دوسرے انسانی بحران‘‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے اور’’پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور خوراک، رہائش اور ادویہ کی قلّت کے بڑھتے ہوئے خطرے‘‘کی طرف اشارہ کیا ہے۔

تنظیم کے شراکتی ترقی کے ڈپٹی ڈائریکٹر صلاح ابوالقاسم کا کہنا ہے کہ ’’ہزاروں افراد کے پاس سونے کے لیے جگہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس دووقت کھانا ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’اس طرح کے حالات میں، بیماریاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں کیونکہ پانی کا نظام آلودہ ہے۔شہر سے موت کی بُو آتی ہے۔ تقریبا سبھی نے کسی ایسے شخص کو کھودیا ہے جسے وہ جانتے ہیں‘‘۔

تنظیم طبیبان ماورائے سرحد نے یہ اطلاع دی ہے کہ وہ پانی اور صفائی ستھرائی کا جائزہ لینے کے لیے مشرقی لیبیا میں ٹیمیں بھیج رہی ہے۔ درنہ میں ایم ایس ایف کے طبی رابطہ کار مینوئل کارٹن نے کہا کہ’’اس قسم کے واقعات کے ساتھ ہم فی الواقع پانی سے متعلق بیماری کے بارے میں فکرمند ہوسکتے ہیں‘‘۔

لیکن ریڈ کراس اور عالمی ادارۂ صحت نے نشان دہی کی کہ وسیع پیمانے پر یقین کے برعکس، قدرتی آفت کے متاثرین کی لاشیں شاذ ونادر ہی صحت کے لیے کوئی خطرہ ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں