سپین کی خواتین کھلاڑیوں کی ہڑتال جاری، مزید تبدیلیوں کا مطالبہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ہسپانوی قومی ٹیم کی قیادت کرنے والی 23 خاتون کھلاڑی سپینش فٹبال فیڈریشن میں مزید اہلکاروں کی تبدیلی تک قومی ٹیم کے لیے نہیں کھیلیں گی۔ کل 41 کھلاڑیوں نے جمعہ کو قومی ٹیم کے نئے کوچ مونٹسے ٹومی کی پیشکش سے چند گھنٹے قبل فیڈریشن کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

توقع ہے ٹومی 22 ستمبر کو سویڈن کے خلاف اور چار دن بعد سوئٹزرلینڈ کے خلاف یورپی نیشنز لیگ میں اگلے دو میچوں کے لیے ہسپانوی قومی ٹیم کے روسٹر کا اعلان کریں گے۔

ہسپانوی قومی ٹیم نے فائنل میچ میں انگلش قومی ٹیم کو کلین گول سے شکست دے کر ویمنز ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر سجایا لیکن اس فتح پر اس وقت فیڈریشن کے صدر روبیئلز نے تقریب کے دوران مڈفیلڈر ہرموسو کو بوسہ دے دیا تھا۔

ہرموسو نے بعد ازاں کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اس بوسے پر رضامند نہیں تھیں۔ ہرموسو کی حمایت میں قومی ٹیم کی کھلاڑیوں اور دیگر کھلاڑیوں نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ وہ ہسپانوی قومی ٹیم کے لیے اس وقت تک نہیں کھیلیں گی جب تک کہ روبیلز فیڈریشن کے صدر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

روبیئلز نے اس ہفتے کے اوائل میں استعفیٰ دے دیا تھا اور قومی ٹیم کے کوچ جارج ولیڈا کو برطرف کر دیا گیا تھا لیکن رپورٹس کے مطابق کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔

خواتین فٹ بال پلیئرز اب فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اینڈریو کیمپس کے میڈیا سنٹر کے ارکان کی رخصتی کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہ میڈیا سنٹر ہرموسو کے غلط بیانات شائع کرنے کے ذمہ دار تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں