لیبیا کی منظر عام سے غائب وزیر خارجہ کی ترک سیلون میں مبینہ تصویر پر نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سمندری طوفان اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران، لیبیا کی وزیر خارجہ نجلاء منقوش، جنہوں نے ہفتے قبل روم میں اپنے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن سے ملاقات کے بعد ملک میں شدید انتشار پیدا کر دیا تھا، کا نام ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے۔

لیبیا کے ایک صحافی نے ہفتے کے روز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کی ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ترکیہ کے ایک ہیئر سیلون کی ہے۔

صحافی نے لکھا کہ وزیر عوامی فنڈز سے ترکی کے سب سے مہنگے سیلون میں ہیں۔

اس تصویر پر، جس میں وزیر "آرام دہ" لباس پہنے ہوئے نظر آئیں، متعدد لوگوں کے تبصرے سامنے آئے۔

نارمل سلوک؟!

بہت سے لوگوں نے ملک میں آنے والی اس تباہی کے دوران وزیر خارجہ کے اس رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

ایک شہری کا یہ بھی خیال تھا کہ لوگوں کے نجی معاملات میں دخل اندازی جائز نہیں ہے اور یہ کہ وزیر آخر کار لیبیا کے دیگر شہریوں کی طرح ایک انسان ہے۔

دوسروں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ تصویر مستند ہے۔

بعض لوگوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی رقم کو اپنی مرضی کے مطابق صرف کرنے کے لیے آزاد ہے۔

العربیہ آزادانہ ذرائع سے اس تصویر کی تصدیق نہیں کرسکا۔

نجلا منقوش گذشتہ ماہ (اگست) کے آخر میں اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے اٹلی میں کوہن کے ساتھ ان کی ملاقات کا انکشاف کرنے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی، جب حکومتی حلقوں اور عوام کی جانب سے ان پر شدید تنقید کی گئی اور دارالحکومت اور ملک کے دیگر شہروں میں مذمتی مظاہرے ہوئے۔ جس کے بعد انہیں برطرف کردیا گیا۔
اس وقت بتایا گیا تھا کہ وزیر اپنی حفاظت کے خوف سے ترکی بھاگ گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ملک میں 1957 میں جاری کردہ ایک قانون کے مطابق لیبیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اب بھی غیر قانونی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں