برطانوی کامیڈین رسل برینڈ پر نوعمر سے زیادتی اور جنسی حملوں کے الزامات

عروج کے 7 برس کے دوران خواتین کو ہراساں کیا: برطانوی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کے معروف کامیڈین اور ایکٹر رسل برینڈ جنسی سکینڈل کی زد میں آگئے۔ نئے سکینڈل کے مطابق برینڈ اپنے عروج کے سات برسوں کے دوران نوعمر سے زیادتی اور جنسی حملوں میں ملوث رہے۔

دی سنڈے ٹائمز، دی ٹائمز اور چینل 4 ڈسپیچ کی طرف سے کی گئی مشترکہ تحقیقات کے مطابق برطانوی میڈیا کے شخصیت رسل برانڈ پر 2006 سے لے کر 2013 کے دوران 7 سال کے عرصے کے دوران عصمت دری، جنسی زیادتی اور جذباتی بدسلوکی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

نیو یارک پوسٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقات کے ذریعے سامنے آنے والے الزامات میں عصمت دری، جنسی زیادتی اور بدسلوکی شامل تھی۔ الزام لگانے والوں میں سے ایک لڑکی مبینہ طور پر اس وقت 16 سال کی تھی۔

برطانوی کامیڈین پہلے ہی اس کی تردید کرنے کے لیے آگے بڑھا تھا جسے اس نے گزشتہ جمعہ کی رات انتہائی سنگین مجرمانہ الزامات کہا تھا۔ رسل برینڈ نے آن لائن پوسٹ کی گئی اپنی ویڈیو میں کہا انھیں ایک میڈیا کمپنی اور ایک اخبار سے خط و کتابت موصول ہوئی ہے جس میں الزامات کی تفصیل ہے۔

انہوں نے ایک ویڈیو کلپ میں اپنی تردید جاری کی جسے انہوں نے متعدد میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا۔ برینڈ نے زور دیا کہ میرے تعلقات ہمیشہ رضامندی سے تھے۔

انہوں نے رپورٹوں کو گھناؤنے اور انتہائی جارحانہ حملوں کا ایک سلسلہ بھی قرار دیا۔

برینڈ نے کہا کہ اس دور میں میرے تعلقات ہمیشہ رضامندی کے ساتھ تھے۔ میں اس وقت ہمیشہ اس چیز کے حوالے سے شفاف تھا۔

انہوں نے مزید کہا اس شفافیت کو مجرمانہ چیز میں تبدیل ہوتے دیکھ کر میں شدید حیران ہوں ۔ میں اس کا مکمل انکار کرتا ہوں۔ کیا اس کے پیچھے کوئی اور ایجنڈا چل رہا ہے؟

یاد رہے برینڈ نے چینل 4، ایم ٹی وی، ریڈیو ایکس اور بی بی سی سمیت متعدد نیٹ ورکس کے لیے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے متعدد پروگرام پیش کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں