ایران سے رہا پانچ امریکی حتمی منزل امریکا جانے والی پرواز پردوحہ سے روانہ

صدر جو بائیڈن کی ایران سے رہائی کے بعد امریکا واپس آنے والے شہریوں کے اہل خانہ سے ’جذباتی گفتگو‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطر کے دارالحکومت دوحہ سے سوموار کی شب امریکا جانے والا ایک طیارہ ایران کی حراست سے رہائی پانے والے پانچ امریکیوں کو لے کر روانہ ہو گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے ایران سے رہائی کے بعد امریکا واپس آنے والے ان شہریوں کے اہل خانہ سے ’جذباتی گفتگو‘ کی ہے۔

ان کی رہائی امریکا اورایران کے درمیان قطر کی ثالثی میں طے شدہ قیدیوں کے تبادلے کے تحت عمل میں آئی ہے۔اس کے تحت بائیڈن انتظامیہ نے امریکا میں قید پانچ ایرانیوں کو رہا کیا ہے۔

پہلے ان پانچ امریکیوں کو قطر کے ایک طیارے کے ذریعے تہران سے دوحہ پہنچایا گیا تھا۔اس کے فوراً بعد ہی امریکا اور ایران دونوں کو اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ ایران کی جنوبی کوریا میں منجمد چھے ارب ڈالر کی رقم غیرمنجمد کرکے دوحہ میں بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی ہے۔

ایران کے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکا نے جن پانچ ایرانیوں کو رہا کرنا تھا، ان میں سے دو دوحہ پہنچ چکے ہیں۔تاہم ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکا میں رہائی پانے والے تین افراد ایران واپس نہیں آ رہے ہیں۔

ایران سے رہائی پانے والوں میں 51 سالہ سیامک نمازی ،59 سالہ عماد شرقی اور 67 سالہ ماہر ماحولیات مراد طاہباز شامل ہیں۔مؤخرالذکر کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے۔انھیں گذشتہ ماہ جیل سے رہا کرکے گھر میں نظربند کردیا گیا تھا۔چوتھے امریکی شہری کو بھی گھر میں نظربند کر دیا گیا تھا جبکہ پانچواں پہلے ہی گھر میں نظربند تھا لیکن ان دونوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق قطری طیارے میں تہران سے روانہ ہونے والے مسافروں میں سیامک نمازی کی والدہ ایفی اور مراد طاہباز کی اہلیہ ویدا بھی شامل تھیں۔دوحہ کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر قطری حکام نے ان کا خیرمقدم کیا۔

ایرانی حکام نے امریکا میں رہا کردہ پانچ ایرانیوں کے نام مہرداد معین انصاری، کامبیز عطار کاشانی، رضا سرہنگ پور، امین حسن زادہ اور کاوہ افراسیابی بتائے ہیں۔ اس سے قبل دو ایرانی عہدے داروں نے کہا تھا کہ افراسیابی امریکا ہی میں رہیں گے لیکن انھوں نے دیگر کا ذکر نہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں