روس اور یوکرین

جنگ میں یوکرین کی فتح بہت مشکل ہے: امریکی چیف آف سٹاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ کے فوری نتیجے تک پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع میں یوکرین کی فتح ایک "بہت اعلیٰ ہدف" ہے اور اس میں "بہت طویل وقت" لگے گا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ماسکو کی جانب سے غیرسنجیدگی کا حوالہ دیتےہوئے ڈیڑھ سال سے جاری لڑائی میں روس کے ساتھ امن مذاکرات کی مزاحمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا بہترین نتیجہ روس کو یوکرین کے تمام علاقوں سے نکال باہر کرنا ہو گا۔

مارک ملی نے جو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ہیں اور اس ماہ کے آخر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے نے کہا کہ یہ ہدف موجودہ جوابی حملے میں حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس کے زیر قبضہ یوکرین میں دو لاکھ سے زیادہ روسی فوجی موجود ہیں۔ یہ حملہ اپنی اہمیت کے باوجود محدود آپریشنل اور ٹیکٹیکل اہداف رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ مکمل طور پر حاصل بھی ہو جاتا ہے تو یہ ساری روسی فوج کی مکمل بے دخلی کا باعث نہیں بن سکتا۔

ملی نے اتوار کو CNN کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایسا کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ "یہ ایک طویل عرصے میں ایک بہت اہم کوشش ہوگی"۔

انہوں نے جنگ کے بدلتے ہوئے پہلوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے خاتمےکا اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے لیکن انہیں شک ہے کہ یہ تنازع کسی بھی وقت جلد ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ "میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ روس کے زیر قبضہ یوکرین سے تمام دو لاکھ یا اس سے زیادہ روسی افواج کو نکالنے میں کافی وقت لگے گا۔ یہ ایک بہت ہی بڑا چیلنج ہے۔

یوکرین نے روسی فوج کے خلاف جوابی حملہ کیا ہے مگراس میں اسے قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس سست رفتار نے مغربی اتحادیوں کو پریشان کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں