امریکا کی آذربائیجان پر نگورنو قراباخ پرحملے کے بعد تنقید،آرمینیا سے مذاکرات پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آذربائیجان نے آرمینیا کے زیرقبضہ نگورنوقراباخ کے علاقے میں نئی فوجی کارروائی شروع کی ہے اور توپ خانے سے لیس فوجی دستے بھیجے ہیں جس سے اس کی ہمسایہ ملک آرمینیا کے ساتھ ایک نئی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔امریکانے آذربائیجان کی اس تازہ فوجی کارروائی پر تنقید کی ہے۔

نگورنو قراباخ کو بین الاقوامی سطح پرآذربائیجان کا علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کا ایک حصہ علاحدگی پسند آرمینیائی حکام کے زیرانتظام ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ان کا آبائی وطن ہے۔اس متنازع علاقے میں1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے دو جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ 2020 میں اس علاقے پر دونوں ملکوں کے درمیاں آخری جنگ ہوئی تھی۔

آذربائیجان کی جانب سے قراباخ کے دارالحکومت سٹیپاناکرٹ میں منگل کے روز فضائی حملے کا انتباہ جاری کیا گیا تھا۔اس دوران میں سوشل میڈیا کی فوٹیج میں زور دار اور باربار گولہ باری کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔واضح رہے کہ آذربائیجان میں سٹیپناکرٹ خان کینڈی کہلاتا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے منگل کے روز ایک بیان میں نگورنوقراباخ میں آذربائیجان کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی ہے اور باکو سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فوجی طاقت کا استعمال بند کرے۔

انھوں نے کہاکہ امریکا کو نگورنوقراباخ میں آذربائیجان کی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش لاحق ہے اور وہ آذربائیجان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ کارروائیاں بند کرے۔انھوں نے کہا کہ ان اقدامات سے اس علاقے میں پہلے سے ہی سنگین انسانی صورتحال خراب ہو رہی ہے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: "جیسا کہ ہم پہلے ہی آذربائیجان پر واضح کر چکے ہیں، تنازعات کو حل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے اور خطے میں منصفانہ اور باوقارامن کے لیے حالات پیدا کرنے کی کوششوں کے منافی ہے‘‘۔

دریں اثناء آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے خارجہ پالیسی کے مشیر حکمت حاجیئف نے کہا کہ باکو نے علاقے میں بری افواج تعینات کی ہیں۔انھوں نے کئی مقامات پر آرمینیائی لائنوں کو توڑا ہے اور اپنے کچھ اہم مقاصد حاصل کیے ہیں۔

باکو کی وزارت دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آذربائیجان کی افواج نے 60 سے زیادہ فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور دیگر فوجی سازوسامان کے ساتھ 20 فوجی گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب قراباخ کے علاحدگی پسند حکام کا کہنا ہے کہ باکو کی فوجی کارروائی میں دو عام شہریوں سمیت 25 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ کچھ دیہات کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

قراباخ میں یہ لڑائی جنوبی قفقاز کے خطے میں جغرافیائی سیاسی توازن کو بھی تبدیل کر سکتی ہے ، جو تیل اور گیس کی پائپ لائنوں سے بھرا پڑا ہے اور جہاں روس - یوکرین میں اپنی جنگ سے الجھا ہوا ہے۔

آذربائیجان کے حاجیئف نے کہا کہ فوج فوجی اہداف کے خلاف گائیڈڈ گولہ بارود کا استعمال کر رہی ہے تاکہ شہریوں کے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’آذربائیجان کا ارادہ دشمنی اور محاذ آرائی کے ایک باب کو بند کرنا ہے۔اب بہت ہو گیا۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسی مسلح افواج اور ایک ایسا ڈھانچا برداشت نہیں کر سکتے جو روزانہ کی بنیاد پر آذربائیجان کی سلامتی اور خودمختاری کو چیلنج کرے‘‘۔

آرمینیا نے قراباخ کے عوام کے خلاف باکو کی ’’مکمل جارحیت‘‘ کی مذمت کی اور آذربائیجان پر قصبوں اور دیہات پر گولہ باری کا الزام عاید کیا۔آرمینیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آذربائیجان نے کھلے عام اس جارحیت کی ذمے داری قبول کی ہے۔

دریں اثناء روس نے دونوں فریقوں سے لڑائی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ روس نے 2020 میں لڑائی کے بعد ایک نازک جنگ بندی کی ثالثی کی تھی۔اس لڑائی میں آذربائیجان نے قراباخ اور اس کے آس پاس کی زمین کے ایک حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا، جسے اس نے 1990 کی دہائی میں ایک سابق مسلح تنازع میں کھو دیا تھا۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کے روز کہا کہ روس آذربائیجان اور آرمینیا دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس نے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں