بھارت کے زیرانتظام متنازع ریاست کشمیرمیں ایک ہفتے سے جاری لڑائی میں آٹھ افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور حریت پسند باغیوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری لڑائی میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی اب ختم ہوگئی ہے۔

یہ لڑائی گذشتہ بدھ کو ریاست کے ضلع اننت ناگ میں واقع گڈول کے جنگلات میں کشمیری عسکریت پسندوں کے گشت پرمامور دو فوجیوں اور ایک پولیس افسر پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ان کے گھات لگا کر کیے گئے اس حملے میں تینوں سکیورٹی اہلکار ہوگئے تھے۔

اس کے بعد کے دنوں میں، طویل لڑائی کے دوران میں لاپتا ہونے کے بعد مزید تین فوجی مردہ پائے گئے ہیں۔بھارتی فوج نے حملہ آوروں کا تعاقب کیا اور اس کارروائی میں ہیلی کاپٹرز اور ڈرونزبھی استعمال کیے ہیں اور جنگلات میں بم داغے ہیں۔

پولیس افسر وجے کمار نے بتایا کہ لڑائی میں دو عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کا مقامی کمانڈرعزیرخان بھی شامل ہے۔

کمار نے صحافیوں کومزید بتایا کہ’’ہم نے ایک اور ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش بھی دیکھی ہے‘‘۔ لیکن ان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

ریاست جموں وکشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دو حصوں میں منقسم ہے مگر دونوں ممالک اس متنازع ریاست پر مکمل دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے درمیان کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع اس علاقے کے کنٹرول کے لیے دو جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔

سنہ 1989 میں بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست سے تعلق رکھنے والے حریت پسندوں نے مسلح جدوجہد شروع کی تھی اور اب تک اس پرتشدد بغاوت میں بھارتی فوجیوں، عسکریت پسندوں اور عام شہریوں سمیت ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نئی دہلی اسلام آباد پر کشمیری حریت پسندوں کی حمایت کا الزام عاید کرتا ہے جبکہ پاکستان ان دعووں کی تردید کرتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے 2019 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حصے سے اس کی محدود آئینی خودمختاری سلب کر لی تھی اور اس پر براہ راست حکمرانی نافذ کردی تھی۔اس کے بعد کے برسوں میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان مہلک لڑائیوں میں کمی ہوئی ہے۔کشمیر میں رواں ماہ ہونے والی دو اور جھڑپوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار اور پانچ مشتبہ باغی مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں