بیجنگ میں شاہ عبدالعزیز لائبریری کی جانب سے وزیر صنعت کو شاہراہ ریشم کا تحفہ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پیکنگ یونیورسٹی میں کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر بندر الخوریف کو شاہراہ ریشم کا نقشہ پیش کیا جس نے چین کو ہزاروں سالوں سے جزیرہ نما عرب سے جوڑا ہے۔انہوں نے منگل کو لائبریری کا دورہ کیا۔ انہوں نے چین کی پیکنگ یونیورسٹی میں کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے آغازکی پانچ سالہ سالگرہ کی تقریب سے خطاب کیا۔

لائبریری کے جنرل سپروائزر فیصل بن معمر نے سعودی وزیر کو ایک سووینئرپیش کیا جس میں شاہراہ ریشم کا نقشہ شامل ہے۔ یہ درآصل سلک روڈ لینڈ سکیپ میپ تھا، جو کہ جدید شاہراہ ریشم کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ہزاروں برس قبل اس سڑک نے عرب اور اسلامی تہذیبوں اور چینی تہذیب کو آپس میں جوڑا ہے سائنسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی اہمیت کی حامل شاہراہ ہے۔

اس پینٹنگ کو ریشم پر سبز زمین کی تزئین کی تکنیک کے ساتھ پینٹ کیا گیا ہے اور اسے منگ خاندان کے دور میں جمع کیا گیا تھا۔ نقشے کا جغرافیائی دائرہ چین کے شہر جیوگوان سے لے کر تیان فانگچینگ اور وہاں سے سعودی عرب کے مکہ معظمہت پھیلا ہوا ہے۔ راستے میں منگ خاندان میں چینی زبان میں ترجمہ کیے گئے مخصوص مقامات کے ناموں کی تعداد 211 ہے، جو قدیم چینی جغرافیہ کی شاندار کامیابیوں کا ثبوت ہے۔ یہ شاہراہ ریشم کی آخری شکل کی عکاسی کرتی ہے جو ہزاروں سال تک جاری رہی۔

نقشے میں شاندار فنون اور دستکاری، اعلیٰ معیار کا مواد، جمالیاتی، فنکارانہ، علمی اور سماجی قدر شامل ہے اور اسے چینی آرٹ کے مجموعے کا ایک ممتاز شاہکار سمجھا جاتا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں