سکھ رہنما کے قتل میں بھارت ملوث نکلا، کینیڈا کا بھارتی سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم

’’کینیڈین سکھ رہنما کے قتل میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے سے متعلق الزامات درپردہ محرکات پر مبنی اور مضحکہ خیز بیانیہ ہے جسے بھارت مسترد کرتا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کینیڈا نے سکھ علاحدگی پسند رہنما کے قتل میں مبینہ طور پر انڈین حکومت کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کرتے ہوئے ایک اعلٰی بھارتی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا ہے۔

ادھر بھارت نے منگل کو کینیڈا کے ان الزامات کو ’درپردہ محرکات پر مبنی اور مضحکہ خیز‘ کہہ کر رد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایک کینیڈین سکھ رہنما کے قتل میں انڈین حکومت ملوث ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’کینیڈین وزیر اعظم کی طرف سے ہمارے وزیر اعظم پر بھی اسی طرح کے الزامات لگائے گئے تھے اور انہیں مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا۔‘

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈین انٹیلی جنس الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی، کینیڈین حکومت نے سینئر بھارتی سفارتکار کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔

سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر: بشکریہ مرتضیٰ علی شاہ جیو
سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر: بشکریہ مرتضیٰ علی شاہ جیو

خالصتان تحریک کے سرکردہ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون کو کینیڈا کے علاقے برٹش کولمبیا کے گورودوارہ میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، ہردیپ کے قتل کے بعد سکھوں نے لندن اور کینیڈا سمیت دنیا بھر میں بھارتی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور بھارت کی ایجنسیوں پر قتل کا الزام لگایا تھا۔

وینکوور میں 10 ستمبر کو خالصتان کے حق میں ہونے والے ریفرنڈم میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد سکھوں نے حصہ لیا، ریفرنڈم میں ہردیپ سنگھ کے مبینہ قتل میں ملوث بھارتی سفارت کاروں کی تصاویر والے بینر اور پوسٹر آویزاں کئے گئے۔

کینیڈین حکومت پر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے شدید دباؤ تھا تاہم تحقیقات کے بعد بھارت کے قتل میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، شواہد سامنے آنے کے بعد کینیڈا اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

کینیڈین وزیر خارجہ میلانی جولی نے سینئر بھارتی سفارتکار اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے مقامی سربراہ کو فوری طور پر ملک سے نکلنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قتل کا الزام ثابت ہوگیا تو یہ ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی ہو گی۔

قبل ازیں کینیڈین پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل میں بھارتی حکومت ملوث ہو سکتی ہے، قتل میں بھارتی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، شہری کے قتل میں غیر ملکی حکومت کا ملوث ہونا ہماری خود مختاری کے خلاف ہے۔

وینکوور میں خالصتان کے حق میں ہونے والے ریفرنڈم میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد سکھوں نے حصہ لیا: رائیٹرز
وینکوور میں خالصتان کے حق میں ہونے والے ریفرنڈم میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد سکھوں نے حصہ لیا: رائیٹرز

سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا ہمارا دعویٰ سچ ثابت ہوا، بھارتی انٹیلی جنس کے قتل میں ملوث ہونے کی سازش دنیا بھر میں بے نقاب ہو گئی، ہردیپ کے قتل کی سنگین واردات میں بھارت کے ملوث ہونے پر کینیڈا میں بھارتی ہائی کمشنر سنجے ورما کو بھی فوری ملک بدر کیا جائے۔

واضح رہے کہ سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون کو کینیڈا کے علاقے برٹش کولمبیا کے گورودوارہ میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جی ٹوئنٹی اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات میں سکھ رہنما کے قتل کا معاملہ اٹھایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں