"سعودی عرب میں فٹ بال کی خواتین کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے"

ستمبر 2019 میں خواتین فٹ بال ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے بعد سے سعودی عرب نے اس کھیل میں نمایاں ترقی کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گذشتہ پانچ سالوں میں سعودی عرب میں کھیلوں میں انقلابی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں کیونکہ ملک نے کھیل کے میدان کو بہتر بنانے کی طرف بڑی پیش رفت کی ہے۔

2018 میں سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کو بطورِ تماشائی اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ تب سے سعودی عرب نے خواتین کے فٹ بال کے کھیل میں اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں جنہوں نے مملکت، اس کے نوجوانوں اور کھیل کو مکمل طور پر ایک نئی صورت عطا کی ہے۔

سعودی عربین فٹ بال فیڈریشن (ایس اے ایف ایف) کا خواتین کا فٹ بال ڈیپارٹمنٹ ستمبر 2019 میں قائم کیا گیا تھا۔

دو سال بعد ملک نے خواتین کی اولین قومی فٹ بال ٹیم کے آغاز کا اعلان کیا۔

سعودی خواتین کی قومی ٹیم کی ارکان (فراہم کردہ)
سعودی خواتین کی قومی ٹیم کی ارکان (فراہم کردہ)

ابتدائی آزمائشوں میں 700 سے زائد لڑکیوں نے قومی اسکواڈ میں جگہ بنانے کے لیے مقابلہ کیا جس کے بعد سے ملک بھر سے 47 نوجوان سعودی خواتین سامنے آئی ہیں۔

سعودی عرب کی جن اولین نوجوان خاتون فٹبالرز نے پیشہ ورانہ طور پر کھیل کر تاریخ رقم کی ہے، انہوں نے ’کھیلنے کے لیے پرعزم‘ کے عنوان سے بننے والی فیفا کی ایک نئی دستاویزی فلم میں اپنی کہانیاں بیان کی ہیں۔

'ہر کسی کو فٹ بال سے محبت ہے'

سعودی عرب کی قومی خواتین ٹیم کی ٹیکنیکل ڈائریکٹر مونیکا سٹاب نے العربیہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ایک ایسی قوم میں جہاں 80 فیصد سے زیادہ آبادی فٹ بال کھیلتی، دیکھتی یا اس کی پیروی کرتی ہے، خواتین ٹیم کے قیام کا فیصلہ تقریباً ناگزیر تھا۔

سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی ٹیکنیکل ڈائریکٹر اور سابق کوچ مونیکا سٹاب 2 نومبر 2021 کو ریاض کے شہزادہ فیصل بن فہد سٹیڈیم میں تربیتی سیشن کی قیادت کر رہی ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی ٹیکنیکل ڈائریکٹر اور سابق کوچ مونیکا سٹاب 2 نومبر 2021 کو ریاض کے شہزادہ فیصل بن فہد سٹیڈیم میں تربیتی سیشن کی قیادت کر رہی ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا، باہر سے شاید ایسا لگے کہ مملکت میں لوگوں نے حال ہی میں کھیل میں دلچسپی لینا شروع کی ہے لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔

سٹاب نے کہا، "جو چیز بہت سے لوگ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب فٹ بال کا دیوانہ ملک ہے۔ ہر کسی کو اس کھیل سے محبت ہے، مرد اور عورت دونوں کو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ جب میں سعودی عرب آئی تو مجھے یہ توقع نہیں تھی۔"

انہوں نے مزید کہا، "لوگ ہمیشہ سے فٹ بال کے دیوانے رہے ہیں اور اب مملکت کی قیادت خواتین کو یہ خوبصورت کھیل کھیلنے کا موقع دے رہی ہے۔"

سعودی خواتین کی قومی ٹیم (فراہم کردہ)
سعودی خواتین کی قومی ٹیم (فراہم کردہ)

واضح لائحہ عمل

سٹاب کے مطابق کسی بھی ملک نے اتنے کم عرصے میں خواتین کے لیے کھیلوں کو اس حد تک ترقی نہیں دی ہے۔ صرف ایک سال میں ایس اے ایف ایف نے رجسٹرڈ خواتین کھلاڑیوں کی تعداد میں تقریباً 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جس کے اعداد و شمار 2021 میں 374 سے بڑھ کر 2022 میں 694 ہو گئے۔

اسی عرصے کے دوران ملک بھر میں خواتین کے کلبوں کی تعداد 56 فیصد اضافے کے ساتھ 16 سے 25 ہو گئی۔ اسی طرح کوچنگ کورسز کی تعداد میں بھی 557 فیصد اضافہ دیکھا گیا – جو صرف 7 سے بڑھ کر 46 تک جا پہنچے۔

2022-23 سکولز لیگ میں 3,660 ٹیموں میں 48،000 سے زیادہ کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

یہ سب بڑھتے ہوئے ٹیلنٹ پول کو نمایاں کرتے ہیں جو آئندہ سالوں میں کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

ایس اے ایف ایف کے پاس 90 خواتین ابتدائی ریفریز، 1,000 سے زیادہ اہلیت کے حامل کوچز اور 20 ممالک کے 50 بین الاقوامی کھلاڑی بھی ہیں جو ویمنز پریمیئر لیگ میں شامل ہیں۔

مارچ 2023 میں سعودی خواتین کی قومی ٹیم پہلی بار فیفا کی درجہ بندی میں داخل ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی عنود الاسماری فیفا کی طرف سے تسلیم شدہ سعودیہ کی اولین خاتون بین الاقوامی ریفری بن گئیں۔

سٹاب نے مزید کہا۔ "میں نے دو سالوں میں کسی ملک کو اتنی ترقی کرتے نہیں دیکھا۔ اتنے کم وقت میں ہم نے جو تیز رفتار پیشرفت کی ہے اس کے پیشِ نظر مجھے یقین ہے کہ مملکت کی قیادت نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ ان کی حکمت عملی بالکل واضح ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں بنیادی سطح پر کیا کرنا ہے۔"

کوچز سے لے کر ریفریز اور کھلاڑیوں تک ایس اے ایف ایف نے میدان میں سعودی خواتین کو ملازمت کے وسیع مواقع فراہم کیے ہیں۔

مملکت نے 10 سے 15 سال کی نوجوان لڑکیوں کو تربیت دینے کے لیے ملک کے طول و عرض میں تربیتی کیمپ بھی لگائے ہیں۔

سٹاب نے کہا، "میدان میں موجود خواتین اور جو پسِ پردہ ہیں، وہ تمام "مستقبل کے لیے رول ماڈل بن چکی ہیں اور وہ سب کی سب سرخیل ہیں۔"

سعودی خاتون فٹبالر لیان جوہری نے العربیہ کو بتایا، اپنے خاندانوں کے ساتھ ساتھ ارد گرد کی کمیونٹی کی طرف سے خواتین نے حمایت اور سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ دیکھا ہے۔

سعودی فٹ بالر لیان جوہری
سعودی فٹ بالر لیان جوہری

جوہری نے کہا، "جب ہم نے پہلے پورے سعودی میں مزید ٹیمیں بنانا شروع کیں اور مردوں کے بڑے کلبوں نے خواتین کی ٹیمیں بنائیں تو یہ تب تک کی سب سے بڑی خبر تھی۔ ہر کوئی بہت متجسس تھا۔ 'یہ لڑکیاں کون ہیں؟' اب ہم ایسی جگہ پر پہنچ گئی ہیں جہاں ہم بہت زیادہ حمایت اور بہت زیادہ جوش و خروش دیکھ رہی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، خواتین کھلاڑی ٹیم کو اعلیٰ ترین سطح پر لے جانے کے لیے پرعزم ہیں اور جانتی ہیں کہ ان کی کوششیں ملک میں خواتین کے فٹ بال کو مزید بلند کرنے میں مدد کریں گی۔

انہوں نے کہا، "اس سفر میں ہمارا کردار اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا اور اگلی نسل کے لیے یہ پہلا قدم اٹھانا ہے۔"

آگے مزید درستی

جوہری نے کہا، "آہستہ آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور ہمارے پاس ایک واضح منصوبہ ہے کہ ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں تفریحی مراکز ضرور تعمیر کرنے چاہئیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ نوجوان نسل کو صحیح طریقے سے [کھیلنا] سکھایا جائے اور چھوٹی عمر میں ہی پیشہ ورانہ مہارت کی تعلیم دی جائے۔"

مزید "درستگی اور نکھار" کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے جو ہمیں سیکھنے اور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں سے بہت کچھ مزید تجربے سے آنے والا ہے۔"

 سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم تربیتی سیشن کے دوران (فراہم کردہ)
سعودی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم تربیتی سیشن کے دوران (فراہم کردہ)

سٹاب کے مطابق فیڈریشن اور کھلاڑیوں کو خواتین کے فٹ بال کی ترقی پر کام کرتے رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا سعودی خواتین کی قومی ٹیم پانچ سے 10 سال کے عرصے میں دنیا کی بہترین ٹیموں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سٹاب نے کہا، "ہمیں بہت ایماندار اور حقیقت پسند ہونا ہو گا۔ کھیلوں میں ہر ترقی میں وقت لگتا ہے۔ یہ راتوں رات نہیں آ سکتا، بالخصوص جب آپ صفر سے شروع کر رہے ہوں۔" اور انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کا سفر حیرت انگیز رہا ہے لیکن عروج تک پہنچنے کے لیے ترقی کے عمل کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے حصول کے لیے صبروتحمل، محنت اور کھیل کے لیے غیر متزلزل عزم ضروری ہے۔

ایک کھیل جو ہر عورت کے لیے ہے

سٹاب اور جوہری کے مطابق اس موسمِ گرما کے شروع میں منعقدہ خواتین کے فیفا ورلڈ کپ 2023 نے دنیا کو فٹ بال پر شمولیت کے اثرات دکھائے ہیں۔ گیمز میں تقریباً 20 لاکھ شائقین کی شرکت، دنیا بھر میں ٹی وی اور آن لائن ناظرین کی اربوں کی تعداد اور 32 مختلف ممالک کی ٹیموں نے یہ ثابت کر دیا کہ فٹ بال ہر ایک کے لیے جگہ رکھتی ہے۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ یہ ٹورنامنٹ اس سال سعودی کھلاڑی جوہری کے لیے اضافی طور پر خاص تھا۔

"اس سال خواتین کا ورلڈ کپ مختلف تھا کیونکہ میں نے اسے ایک مختلف نقطۂ نظر سے دیکھا۔ اب جبکہ ہم فیفا کا حصہ ہیں اور اب جب کہ ہم ایک قومی ٹیم ہیں تو میں نے اسے اس نقطۂ نظر سے دیکھا کہ یہ [ٹیمیں] ہماری مخالف ہیں۔ وہ ہمارے برابر ہیں اور ہم مستقبل میں ان کا سامنا کرنے والے ہیں۔ یہ دیکھنا بہت زیادہ دلچسپ تھا۔"

سٹاب کو جن چیزوں نے انہیں سب سے زیادہ پرجوش کیا، وہ تھا اس خطے کی خواتین کو عالمی سطح پر نمائندگی کرتے ہوئے دیکھنا۔

سعودی خواتین کی قومی ٹیم کی ٹیکنیکل ڈائریکٹر نے کہا، "خواتین کے ورلڈ کپ میں دو چیزیں جنہوں نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تھیں مراکش کی ٹورنامنٹ میں شمولیت اور ایک مسلمان کھلاڑی کا حجاب میں ہونا۔ اس کھلاڑی نے پوری دنیا کو دکھایا کہ کوئی بھی کھلاڑی حجاب پہن کر ورلڈ کپ میں آ سکتی ہے۔"

سٹاب نے مزید کہا، "گذشتہ سالوں کی ترقی نے ظاہر کیا کہ ہر ایک کو کھیل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کا مذہب کیا ہے یا وہ کہاں سے آئی ہے۔ ہر عورت کو کھیلنے کا حق ہے۔ ہر عورت میں صلاحیت ہوتی ہے اور یقیناً اسے یہ خوبصورت کھیل کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔"

سٹاب کے مطابق سعودی خواتین کی ٹیم میں یہ صلاحیت موجود ہے۔

"ہم نے مراکش کو ورلڈ کپ میں جاتے دیکھا۔ ہم نے ویتنام کو ورلڈ کپ میں جاتے دیکھا اور فلپائن کو ورلڈ کپ میں جاتے دیکھا۔ تو یہ ممکن ہے اگر ایس اے ایف ایف خواتین کے فٹ بال کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہو۔"

"میرے خیال میں سعودی عرب کے لیے مستقبل میں بہت سی عظیم چیزیں رونما ہو سکتی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں