امریکہ،سعودی عرب دفاعی معاہدےکوجنوبی کوریا اور جاپان کی طرح دیکھ رہےہیں:نیویارک ٹائمز

امریکی حکام کے مطابق شرقِ اوسط یا سعودی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کے حملے کی صورت میں امریکہ اور سعودی عرب ایک دوسرے کی فوجی مدد کرنے کا عہد کریں گے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا کہ واشنگٹن اور ریاض جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی معاہدوں کی طرح کے ایک ممکنہ دفاعی معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے ایک بے مثال معاہدے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہی ہے۔

سعودی عرب کے کئی مطالبات ہیں جن میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سویلین جوہری پروگرام میں امریکی مدد اور واشنگٹن کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی شامل ہے۔

نیویارک ٹائمز سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق اگر شرقِ اوسط یا سعودی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کا حملہ ہو تو امریکا اور سعودی عرب ایک دوسرے کی فوجی مدد کرنے کا عہد کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق سعودی عرب میں 3000 سے کچھ ہی کم امریکی فوجی تعینات ہیں۔

مشقوں کی نگرانی کرنے والے امریکی کرنل نے العربیہ کو بتایا کہ اس ماہ کے شروع میں امریکہ اور سعودی عرب نے شرقِ اوسط میں ڈرون طیاروں کے انسداد کی اب تک کی سب سے بڑی مشق کی۔

جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ امریکی معاہدے امریکی فوجیوں کی دونوں ممالک میں تعیناتی کی اجازت دیتے ہیں اور اگر میزبان ملک یا امریکی فوجیوں میں سے کسی ایک پر حملہ ہو تو وہ ایک دوسرے کی حمایت کریں گے۔

ان معاہدوں کو عموماً کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کی ترقی پسند ڈیموکریٹس مخالفت کر سکتے ہیں۔

اس کے باوجود امریکی حکام نے کہا کہ سعودی-اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور یہ ممکنہ طور پر سعودی عرب کو چین سے دور لے جا سکتا ہے جسے امریکہ روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں