امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا ایران کی نئی 'ڈرون حکمتِ عملی' کے خلاف انتباہ

روس کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھنے کے ساتھ ایران کے ڈرون پروگرام پر مزید امریکی پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ایران کے بغیر پائلٹ ڈرونز (یو اے وی) اور فوجی طیاروں کی صنعت کے فروغ میں تعاون فراہمی کے شبے میں امریکہ نے منگل کے روز چار ملکوں کے متعدد افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کی ہیں۔ یہ اقدام تہران میں ڈرون طیاروں کی تیاری کے بڑھتے ہوئے خطرات سے متعلق امریکی خدشات میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔

نئی پابندیاں ایسے وقت لگائی گئی ہیں جب امریکی انٹیلی جنس کے سینئیر اہلکار اُن ایرانی دعوؤں کی تردید میں لگے ہوئے ہیں جس میں تہران کا موقف ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی حمایت نہیں کر رہا۔ انٹیلی جنس حکام یورپ اور عرب ممالک سمیت عالمی برادری کو بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے روس-ایران دفاعی تعلقات سے انہیں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

’’العربیہ‘‘ اور دوسرے ابلاغی اداروں کے ساتھ حالیہ آف کیمرہ بریفنگ میں فوجی انٹیلی جنس ایجنسی کے حکام اور تجزیہ کاروں نے عراق میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کردہ ایرانی ڈرونز اور روس کی جانب سے یوکرین کے اندر شہریوں کو مارنے کے لیے استعمال کردہ ڈرونز کے درمیان تعلق کی وضاحت کی۔

ڈی آئی اے کے ایک سینئیر تجزیہ کار نے بریفنگ کے دوران دوسروں کی طرح نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا، "امریکہ کی پہلی کوشش یہ دکھانا ہے کہ ایران، روس کی مدد کر رہا ہے اور یہ غلط [روسی اور ایرانی] معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے۔"

ایران نے بار ہا روس کو ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کی ہے جس میں اس ہفتے کی گئی تردید بھی شامل ہے جب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے امریکہ سے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یورپی دارالحکومتوں اور اقوامِ متحدہ نے امریکی الزامات کو سنا لیکن ساتھ ہی واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے ماسکو کو ڈرون فراہمی کے ثبوت مہیا کرے۔

ایک تازہ علانیہ رپورٹ میں ڈی آئی اے نے ایک ویڈیو موازنہ پیش کیا جو یوکرین میں روس کے استعمال کردہ اور شرقِ اوسط میں امریکی اور پارٹنر افواج پر حملے کے لیے استعمال کردہ ایرانی یو اے وی کے درمیان تھا۔ ڈی آئی اے کے مطابق یوکرین سے ملنے والے ڈرون کا ملبہ اور حصے شرقِ اوسط میں فوجی نمائشوں اور دیگر مقامات پر پیش کردہ سسٹمز سے مطابقت رکھتے تھے۔

ڈی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے 2021 میں کربلا میں عراق کے حملے کے بعد برآمد ہونے والا ایک شاہد-131 طرز کا ڈرون دکھایا۔ شاہد-131 کے ساتھ ہی گذشتہ موسمِ خزاں میں یوکرین میں استعمال ہونے والے مختلف شاہد-131 ڈرونز کا ملبہ بھی تھا۔

ڈی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے سیٹلائٹ نیویگیشن انٹینا کی طرف اشارہ کیا جو دونوں ڈرونز میں ایک جیسے تھے اور ساتھ ہی ڈرون کے اندر استعمال ہونے والے شہد کے چھتے جیسی جالی کی ساخت کی طرف اشارہ کیا۔ شہد کے چھتے کی طرح کا ڈیزائن ایران کی شناخت ظاہر کرتا ہے اور اسی طرح عراق میں امریکی فوجیوں کے خلاف استعمال کردہ ڈرون اور یوکرین کو نشانہ بنانے والے ڈرون میں ونگ سٹیبلائزر کی مماثلت ہے۔

عراق اور یوکرین میں ڈرون انجن کے اجزاء بشمول روٹری انجن، کمپارٹمنٹ کور، انجن تھروٹل باڈی، ریلے بورڈ، پروسیسنگ ماڈیول کیس کور اور پروسیسنگ ماڈیول کیس مماثل ہیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایران نے ستمبر 2022 میں شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں پر حملہ کیا اور اس کا عوامی طور پر دعویٰ کیا تھا۔ اس حملے میں استعمال ہونے والے یو وی ایز (ڈرونز) کا ملبہ اس شک کو دور کرتا ہے کہ ڈرون کا تعلق اور ساخت ایرانی تھی۔ ڈی آئی اے نے کہا کہ اُس حملے میں اور اُسی وقت کے قریب یوکرین میں ایک الگ روسی حملے میں استعمال کردہ ڈرونز کے اجزاء میں مماثلت سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ یہ دونوں سسٹم ایرانی تھے۔

ایران سے روس کو ڈرونز کی منتقلی کے لیے کون سا راستہ استعمال کیا جا رہا ہے، اس سوال کے جواب میں انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے کہا کہ اب ترجیحی طریقہ بحیرۂ کیسپین کے ذریعے نقل وحمل ہے۔

ایک تجزیہ کار نے سیٹلائٹ کی تصاویر کو نمایاں کرتے ہوئے العربیہ کو بتایا: "ایران روس کو ڈرونز اور روس کے اندر ڈرون تیاری کے لیے مدد ارسال کر رہا ہے۔" ان تصاویر سے ظاہر ہوتا تھا کہ روس میں ڈرون تیاری کی سہولت بنائی جا رہی ہے۔

ایران کے پاس زمین پر مشیر ہیں اور وہ پہلے سے تیار شدہ یو اے ویز کو تہران سے ماسکو بھیجنے کے بجائے روس کے اندر تیار کیے جانے والے ڈرونز کے لیے مادی مدد بھیج رہا ہے۔

ایران کے ڈرون نیٹ ورک پر منگل کی پابندیوں نے ایران میں تین افراد، چین میں دو افراد اور ایک ادارے، روس میں تین اداروں اور ترکی میں دو افراد کو نشانہ بنایا۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ ایران کی یو اے ویز کی خریداری، ترقی اور پھیلاؤ شرقِ اوسط خطے کو غیر مستحکم اور یوکرین کے خلاف روس کی بلا اشتعال اور بلا جواز جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔

ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی میں موجود برآمد شدہ ایرانی شاہد-131 ونگ اسٹیبلائزرز اور انجن
ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی میں موجود برآمد شدہ ایرانی شاہد-131 ونگ اسٹیبلائزرز اور انجن

موسم گرما کے دوران امریکہ، البانیہ، فرانس، برطانیہ اور یوکرین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے یوکرین میں ایرانی یو اے ویز کے روسی استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرانی یو اے وی حکمتِ عملی

لیکن جو چیز زیادہ تشویشناک ہے وہ ایران کے ڈرون پروگرام اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات کا مستقبل ہے جس کے بارے میں ڈی آئی اے کے ایک تجزیہ کار نے کہا کہ یہ خالصتاً لین دین کے تعلقات سے حقیقی شراکت داری کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

تجزیہ کار نے کہا، "[ایسی شراکت داری کے لیے] بنیاد رکھی جا رہی ہے۔"

روس میں ایرانی ڈرونز کے استعمال کے حوالے سے خطرہ یہ ہے کہ تہران کے پاس ایک میدانِ جنگ ہے جس کو یہ جانچنے کی سہولت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کیا چیز کام کرتی ہے اور کیا نہیں۔

دوسری طرف خطرہ متعلقہ ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ "ہم بہتر ہو گئے ہیں اور ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ کیا چیز کام کرتی ہے۔"

تاہم خلیجی اور دیگر علاقائی ممالک کے لیے خطرہ اس "نئے طریقے" میں ہے کہ ایران کم لاگت والے اور آسانی سے جوڑے جانے والے ڈرونز کے ساتھ کام کرتا ہے اور یہ کہ وہ اپنے سسٹم میں کس طرح مسلسل اختراعات کرتا ہے۔

تجزیہ کار نے سوال کیا، "کیا خطے میں درجنوں ڈرونز کے خلاف دفاع کرنے کی مناسب دفاعی صلاحیت موجود ہے۔

ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے مزید برآمد شدہ پرزے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ (ڈی آئی اے)
ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے مزید برآمد شدہ پرزے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ (ڈی آئی اے)

وہ یوکرین میں ایک ساتھ متعدد ڈرون تعینات کرنے کے لیے روسیوں کی جانب سے استعمال کردہ ایک نئے طریقہ کار کا حوالہ دے رہے تھے۔

قبل ازیں ایران یا ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا عراق یا شام میں امریکی یا اتحادی افواج پر ایک یا دو ڈرون فائر کرتی تھیں۔ انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے کہا کہ نیا طریقہ ڈرون جنگوں کا مستقبل ہو سکتا ہے۔

جہاں تک ایرانی صدر کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ ایران روس کو ڈرون نہیں بھیج رہا تھا، سینئیر تجزیہ کار نے کہا کہ تھنک ٹینکس، 20 سے زائد ممالک کے سرکاری حکام اور نامہ نگاروں کے لیے ثبوت دکھائے گئے تھے۔ اسی تجزیہ کار نے کہا، "یہ [ایران کے انکار] کا براہِ راست مقابلہ کرتا ہے اور یہ دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں سب کے دیکھنے کے لیے ایرانی ڈرون موجود ہے"۔

ایرانی حکومت کو دوسرے ممالک کے ساتھ مناسب اقتصادی اور مالی تعلقات سے روکنے والی سخت پابندیوں کی وجہ سے ممکن ہے ایران یو اے وی ٹکنالوجیز کی برآمد اور فروخت کا رخ کر لے۔ تجزیہ کار نے خبردار کیا، "اس بار ایران نے روس کی مدد کی لیکن مستقبل میں یہ مدد کوئی اور کر سکتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں