سعودی عرب اوراسرائیل کے درمیان 'تاریخی امن' ممکن ہے:نیتن یاہو کی جوبائیڈن سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے امریکا کی حمایت سے ایک شاندار معاہدہ ممکن ہے۔

وہ نیویارک میں جوبائیڈن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا:’’ میرے خیال میں جناب صدر!آپ کی قیادت میں ہم اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی امن قائم کر سکتے ہیں‘‘۔

صدر بائیڈن سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور اس ضمن میں سفارتی کامیابی حاصل کرنے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔

البتہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس وقت تک باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرے گا جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازع کا کوئی دیرپا حل نہیں نکل آتا۔

بائیڈن انتظامیہ اندازہ لگا رہی ہے کہ اگر امریکا بڑی رکاوٹوں پر قابو پا لیتا ہے تو وہ اس طرح کے کسی میگا معاہدے سے بڑے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اے بی سی نیوز کے پروگرام ’گڈمارننگ امریکا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک (اسرائیل اور سعودی عرب) کو ایک ساتھ لانے سے خطے کے استحکام پرزبردست اثر پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ مشرق اوسط میں تو کئی دہائیوں سے تنازعات چل رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات کی میز پرتعلقات کو'معمول پر لانے کے راستے کے عناصر' موجود ہیں لیکن فی الوقت کوئی فریم ورک یا شرائط دست خط کے لیے تیار نہیں ہیں۔انھوں نے سات ستمبر کو نامہ نگاروں کو بتایا:اس سمت میں’’ابھی بہت کام کرنا باقی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size