شوئیگو کا پاسداران انقلاب ایران کے فضائی یونٹ کا دورہ؛ڈرون اور میزائلوں کا معائنہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے بدھ کے روز سپاہ پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس یونٹ کا دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے اس کے ڈرونز، میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کا معائنہ کیا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سرگئی شوئیگو کا پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس یونٹ کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ نے استقبال کیا،انھیں یونٹ کا معائنہ کرایا اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔

اس سے قبل شوئیگو نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد رضا اشتیانی سے ملاقات کی تھی۔ تسنیم کے مطابق انھوں نے ایران اور روس کے درمیان "طویل مدتی فوجی اور دفاعی تعاون کی دستاویز‘‘ کے علاوہ آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین تنازع کے حل کی تجاویز کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تازہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے، اشتیانی نے کہا:’’بین الاقوامی سرحدوں اور ممالک کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا اسلامی جمہوریہ ایران کی سرخ لکیروں میں سے ایک ہے ... ہم مجوزہ 3+3 فارمیٹ کو قفقاز کے خطے میں مسائل کا پُرامن حل سمجھتے ہیں‘‘۔

اس فارمیٹ میں قفقاز کی تین ریاستیں ۔۔آرمینیا ، آذربائیجان اور جارجیا - اور ان کے تین ہمسایہ ممالک - روس ، ترکیہ اور ایران شامل ہیں۔آذربائیجان نے منگل کے روز نگورنوقراباخ کے علاقے میں علاحدگی پسند قوتوں کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

روسی وزیردفاع شوئیگو نے اس موقع پر کہا کہ’’ مغرب کی مخالفت کے باوجود روس اور ایران کے تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ہم امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود اپنی منصوبہ بند سرگرمیوں کے پورے سیٹ کو نافذ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں‘‘۔

روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق شوئیگو نے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ روس اور ایران پر مغرب کی پابندیوں کا دباؤ بیکار ثابت ہو رہا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

شوئیگو ایران کے دورے پرمنگل کے روز تہران پہنچے تھے اورانھوں نے ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر جنرل محمد باقری سے ملاقات کی تھی جو ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جنرل باقری نے کہا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ماننا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان طویل مدتی تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اسی کے پیش نظراس تعاون کی دستاویز کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔یہ دستاویز اہم فوجی اور دفاعی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور طویل مدتی دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم کے طور پر کام کر سکتی ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران میں روس اور ایران نے نے متعدد شعبوں میں مضبوط تعلقات استوار کیے ہیں۔ان میں خاص طور پر فوجی تعاون میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک ہی مغرب کی کڑی پابندیوں کا شکار ہیں۔

یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی ایران پر یہ الزام عاید کرتے ہیں کہ وہ کِیف کے خلاف جاری جنگ میں روس کو ہتھیار بالخصوص ڈرونز مہیّا کر رہا ہے جبکہ تہران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں ایرانی میڈیا نے خبر دی تھی کہ ملک کی فضائیہ نے روسی ساختہ یاک 130 تربیتی طیاروں کی ایک کھیپ حاصل کر لی ہے۔اس کا مقصد اس کی فضائیہ کی تربیت اور جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں