ایران مفاہمت کو سنجیدگی سے لے رہا ہے: سعودی ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے زور دے کر کہا ہے کہ مملکت چاہتی ہے کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ مثبت انداز میں کام کرے۔

سعودی ولی عہد نے جمعرات کو ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران مملکت کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین ہی نے سعودی عرب اور ایرانیوں کے درمیان ثالثی کےلیے مثبت کردار ادا کیا۔

انہوں نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے والے کسی بھی ملک کے بارے میں مملکت کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ان کا استعمال نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ دنیا نئے ہیروشیما کو برداشت نہیں کر سکتی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ہمارے اہداف کے لیے خطے کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ خطے اور اس کے تمام ممالک اقتصادی طور پر آگے بڑھیں، سلامتی اور استحکام سے لطف اندوز ہوں۔

ایران ۔ سعودیہ تعلقات کی بحالی

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اور ایران نے گذشتہ 10 مارچ کو بیجنگ میں دونوں ممالک کے درمیان 2016 سے منقطع سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے اور اپنے سفارتی مشن دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

گذشتہ جون میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سرکاری دورے پر تہران گئے تھے جہاں دوران انہوں نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی۔ اس وقت اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تہران نے سفارتی مشنوں کی واپسی کے لیے سہولیات فراہم کی تھیں۔

انہوں نے اس وقت اس بات پر بھی زور دیا کہ "دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی ضرورت پر مبنی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں