لوک سبھا سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی ایک تہائی نشستوں کا بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے ایوانِ زیریں [لوک سبھا] نے وفاقی اور ریاستی سطح پر ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھاتے ہوئے دگنا اضافے کا بل منظور کر لیا ہے۔

خبر رساں ایجسی اے ایف پی کے مطابق مجوزہ بل، قانون کی شکل اختیار کرنے کے بعد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مختص کی جائیں گی۔

یہ اضافہ پہلی بار 1996 میں تجویز کیا گیا تھا، یہ بل کئی دہائیوں سے کچھ سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے زیر التوا تھا۔ لوک سبھا نے گھنٹوں کی شدید بحث کے بعد تقریباً اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔ تاہم آئندہ سال ہونے والے قومی انتخابات سے پہلے اس کا اطلاق نہیں ہو سکے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں بل کے حق میں ووٹ دینے والے ممبران پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اسے ایک “تاریخی قانون سازی” قرار دیا جو سیاسی عمل میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے قابل بنائے گا۔

خیال رہے کہ جب اندرا گاندھی کو 1966 میں وزیر اعظم کے منصب کے لیے منتخب کیا گیا تو اس وقت وہ پارلیمانی جمہوریت والے ممالک میں دنیا کی دوسری خاتون سربراہ حکومت تھیں۔ ان سے چھ سال قبل سری لنکا نے سریما بندرانائیک کو وزیراعظم منتخب کر کہ پہلا ملک ہونے کا یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

انڈیا کی جمہوری تاریخ میں دو خواتین صدر کے عہدے پر فائز رہیں جبکہ دیگر نے وزرائے اعلٰی اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے طور پر اہم کردار ادا کیے لیکن پارلیمان میں ان کی تعداد کم رہی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آخری قومی انتخابات کے بعد انڈیا کے 788 ارکان پر مشتمل پارلیمان میں صرف 104 خواتین ہیں جو 13 فیصد سے کچھ اوپر ہے۔

اس بل کو اب بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں منظوری درکار ہو گی۔ یہاں سے منظور ہونے کی صورت میں اسے بھارتی صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور قانون بن جائے گا۔

لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے ابھی کچھ راستہ باقی ہے کیونکہ اس کا انحصار ہندوستان کی مردم شماری کی تکمیل پر ہوگا۔

ہر 10 سال بعد منعقد ہونے والی یہ مشق 2021 میں منعقد ہونا تھی لیکن کرونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی اور اب 2025 میں ہونے کی امید ہے۔

اس بل کی منظوری سے اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں حکومت کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ متوقع ہے۔

لوک سبھا میں تقریباً آٹھ گھنٹے تک قانون سازی پر بحث ہوئی، اپوزیشن کے کئی ارکان نے اس کے نفاذ کے بارے میں خدشات کا بھی اظہار کیا لیکن پھر حمایت کر دی۔

کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے پارلیمان سے خطاب میں بل پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اطلاق جلد ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بل کا فوری نافذ ہونا نہ صرف ضروری ہے بلکہ ممکن بھی ہے، اس میں تاخیر خواتین سے ناانصافی کے مترادف ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں