سعودی عرب میں ثقافتی سرگرمیوں پر بین الاقوامی چھاپ نمایاں ہے: امریکی اتاشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"باہمی تعریف اور گہرا احترام" ایک ایسا جُملہ ہے جو مملکت میں امریکی سفارت خانے کی ثقافتی اتاشی ڈیوڈ میکڈونلڈ نے "امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی تبادلے" کے بارے میں پوچھے گئے سوال کےجواب میں کہا۔

امریکی سفارتی کور میں تقریباً 17 سال گذارنے والی میکڈونلڈ نے بہت سے ایسے سوالات کا جواب دیا جواس کے ذہن میں آنے کے فوراً بعد انہیں مملکت میں کام کرنے کا کام سونپا گیا، چاہے وہ کام کی نوعیت سے متعلق ہوں یا ان کےخاندان سے متعلق ہوں۔

ثقافت اور ثقافتی تعلقات (سعودی-امریکی) امریکی ثقافتی اتاشی کے ساتھ سعودی عرب کے آن لائن اخبار "العاجل" مُکالمے کے بنیادی سوالات تھے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ "واشنگٹن سفارت خانہ دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان گرانٹس اور پروگراموں کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے"۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں آنے کے بعد اس نے جو کچھ دیکھا وہ حیران کن تھا۔ یہاں کا ثقافتی تنوع انہیں بہت پسند آیا۔

میکڈونلڈ نے "العاجل" کے ساتھ ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ 65 سعودی مردوں اور عورتوں نے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں امریکی میڈیا اقدام، MEMI میں حصہ لیا۔ اس کے ملک نے دو امریکی گیمنگ ماہرین کو سعودی پروگرامرز، ڈیزائنرز اور کاروباریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مدعو کیا۔اس کا مقصد ان کی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ممتاز اور توسیع پذیر تعلقات کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کے بارے میں ثقافتی اتاشی کی رائے

اس سوال کے جواب میں مسز میکڈونلڈ نے کہا کہ امریکیوں اور سعودیوں نے آٹھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے لیے گہری ثقافتی قدردانی کا اشتراک کیا ہے اور آج ہم اس دوستی کو فروغ دے رہے ہیں جو تعلیمی تبادلوں کے ذریعے مزید پھلی پھولی ہے۔

یہاں امریکی سفارت خانے میں ہم اپنے دونوں طرف کے لوگوں کے درمیان گرانٹس اور پروگراموں کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جس سے وہ ایک دوسرے کی ثقافتوں اور شناختوں کے بارے میں جان کاری دی جاتی ہے۔اس کے لیے ہم کچھ شاندار پروگراموں کو نافذ کرنے کے عمل میں ہیں۔

اپنے مڈل ایسٹ میڈیا انیشی ایٹو (MEMI) کے ذریعے ہم نوجوان سعودی فلم سازوں اور ٹی وی بنانے والوں کو مشہور USC سکول آف سنیمیٹک آرٹس کے تجربہ کار امریکی اسکرین رائٹرز سے جوڑتے ہیں۔

MEMI پروگرام میں 65 سے زیادہ سعودی مرد و خواتین نے شرکت کی، ساتھ ہی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطوں سے 400 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ یہ پروگرام ابھرتے ہوئے سعودی ہنرمندوں کو ڈرامائی طور پر بھرپور کرداروں کے بارے میں ٹیلی ویژن سیریز بنانے میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فروغ پزیر سعودی تخلیقی معیشت کے لیے ہماری حمایت دوسرے شعبوں تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ ان میں ویڈیو گیم کی ترقی شامل ہے۔ درحقیقت ہم نے حال ہی میں دو سرکردہ امریکی گیم ماہرین کو مدعو کیا ہے۔ ایک کاروبار اور دوسرا تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کےلیے مدعو کیا گیا تاکہ نوجوان سعودی پروگرامرز، ڈیزائنرز ، کاروباری حضرات اور کھیلوں کے شعبے سےوابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں