سعودی عرب کا 93 واں قومی دن: تاریخ، تقریبات اور وہ سب کچھ جو آپ کو جاننے کی ضرورت ہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسلام کے دو مقدس ترین شہروں کا گھر سعودی عرب 23 ستمبر کو اپنا ترانواں قومی دن منا رہا ہے۔

سعودی عرب کے قومی دن کو عربی زبان میں ’الیوم الوطنی‘ کہا جاتا ہے، یہ ایک ایسا موقع ہے جو سعودی عرب کی تاریخ میں گہری جڑوں کی عکاسی کرتا ہے۔اس دن مملکت کو گھر کہنے والے شہری اور تارکین وطن گذشتہ 93 سال کے دوران میں ملک کے انقلابی سفر کا جشن مناتے ہیں۔

2023 کے قومی دن کا عنوان:’’ہم خواب دیکھتے ہیں اور انھیں حاصل کرتے ہیں‘‘ہے۔یہ مملکت کی شاندار تاریخ، گذشتہ نو دہائیوں میں اس کے سنگ میل اور کامیابیوں اور موجودہ دور کو حقیقت کا روپ دینے والے بصیرت مندوں کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی بادشاہت کا قیام

23ستمبر 1932ء کو شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن المعروف ابن سعود نے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت نجد اور حجاز کے علاقوں کو ایک نئے نام ’مملکت سعودی عرب‘ کے تحت متحد کیا گیا۔اس کی قومی زبان عربی ہے اور قرآن اس کا آئین ہے۔ اس اتحاد نے اس قوم کی پیدائش کو نشان زد کیا جسے آج جانا جاتا ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں میں سعودی قومی دن ایک رنگا رنگ سالانہ تیوہار اور روایت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اس کے دوران میں حب الوطنی اور اپنائیت کے جذبے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ لوک رقص، گیت اور روایتی تیوہار قومی دن کی تقریبات کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ہر سال سعودی پرچم سڑکوں اور عمارتوں کی زینت بنتے ہیں اور شہری فخر سے اپنے وطن سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

سعودی عرب نے 2005ء میں پچھترویں یومِ تاسیس کے موقع پر ہرسال 23 ستمبر کو قومی دن منانے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سے اس کو قومی جوش وخروش اور روایتی عرب جوش وجذبے سے منایا جاتا ہے۔

اس سال قومی دن کی سرکاری ویب سائٹ پر پیغام میں لکھا ہے:’’اس بادشاہت کی بنیاد کے بعد سے ہمارے خواب رُکے نہیں ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں ہم ان کے حصول کے لیے کام کریں گے۔آئیے اپنی کامیابیوں کا جشن منائیں‘‘۔

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (جی ای اے) نے ویب سائٹ پر کہا کہ نئی شناخت ان کوششوں اور اقدامات کا احترام کرتی ہے جنھیں شہریوں اور مکینوں کے مفاد میں کامیابی سے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔یہاں مملکت میں، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے ہی بہت سی پیش رفت ہو چکی ہے، اور ہمیں اس پیش رفت کو دنیا کے ساتھ بانٹنے پر فخر ہے۔مملکت کی ٹھوس کامیابیوں سے آگاہ کرنا ایک اجتماعی کوشش ہے۔اس میں قوم کا ہر ادارہ شامل ہے‘‘۔

سعودی عرب کی نئی شناخت کے بنیادی عناصر سعودی ویژن 2030 کے سب سے قابل ذکر منصوبوں سے اخذ کیے گئے ہیں جن میں انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کو اپنے مشن کو مقدم رکھا گیا ہے۔نئے ڈیزائن میں ایک مرد اور ایک عورت کو مرکز میں رکھا گیا ہے جو مملکت کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور مختلف سعودی منصوبوں کی علامتوں سے گھرے ہوئے ہیں۔

قومی دن کی تقریبات سعودی عرب کے پرعزم ویژن 2030 کی ایک جھلک بھی پیش کرتی ہیں۔ ویب سائٹ پرالدرعیہ گیٹ، نیوم کے دا لائن اور امالہ سمیت اہم منصوبوں کو اجاگر کیا گیا ہے، جو قوم کی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے ترانوے قومی دن پر نئی شناخت کا عکاس پوسٹر ۔
سعودی عرب کے ترانوے قومی دن پر نئی شناخت کا عکاس پوسٹر ۔

شاندار آتش بازی

کوئی بھی سعودی قومی دن میگا آتش بازی کے مظاہرے کے بغیرمکمل نہیں ہوتا۔آتش بازی سے رات کو آسمان جگمگا اٹھتا ہے۔ 2023 کے قومی دن کے تھیم پر مبنی آتش بازی کی متعدد مظاہرے تمام بڑے شہروں میں اہم مقامات پر متوقع ہیں۔

ساحلی شہر جدہ میں آتش بازی کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوگا۔ یہ شو رات 9 بجے شروع ہوگا، جس میں بحیرہ احمر کے شہر کے مختلف حصوں سے ایک مسحور کن منظر پیش کیا جائے گا۔

قومی دن کا تجربہ

آتش بازی کے علاوہ جدہ پرومینڈ رائل گارڈ مارچ کی بھی میزبانی کرے گا اور یہ گروپ مارچ، موسیقی، گھڑ سواروں کے شوز اور جلوسوں پر مشتمل پریڈ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز شاہی سعودی فضائیہ کے طیاروں کی ایک بڑی تعداد بشمول ٹائیفون، ایف 15 ایس، تارنیڈو اور ایف 15 لڑاکا جیٹ فضائی کرتبوں کےمظاہرے کریں گے۔

ایس پی اے کے مطابق یہ فضائی شو 13 شہروں میں منعقد ہوں گے۔ان میں ریاض، جدہ، ظہران، الدمام، الجوف، الاحساء، طایف، الباحہ، تبوک، ابھاء، خمیس مشیط اور الخبر شامل ہیں۔

سعودی فالکنز کی ایروبیٹک ٹیم قومی دن کی تقریبات کے موقع پر متعدد شہروں میں فضائی نمائش کرے گی۔

سعودی شہریوں اور تارکین وطن کے خاندان قومی دن کے موقع پر مختلف رنگا رنگ تقریبات سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔لائٹ شوز، ثقافتی نمائشیں، اور مالز، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں خصوصی پیش کشیں قومی دن کے ماحول کو چار چاند لگائیں گے۔

قومی دن کی تاریخی اہمیت

سعودی قومی دن کی تاریخی اہمیت جدید دور سے آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔قبل از اسلام کے زمانے میں جزیرہ نما عرب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک خانہ بدوش قبائل کا گھر تھا۔آپ ﷺ نے ان قبائل کو ایک اسلامی مذہبی ریاست میں متحد کیا۔

خطے میں مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال نے بالآخر جدید سعودی عرب کے ابھرنے کی راہ ہموار کی۔سعودی عرب کا قومی ترانہ "عاش الملک" شہریوں کے لیے انتہائی فخر اور حب الوطنی کا باعث ہے اور قومی دن کے موقع پر مملکت بھر میں سنا جائے گا۔

سعودی عرب کا موجودہ قومی ترانہ 1950 ء میں شاہ عبدالعزیز نے اپنایا تھا۔ اسے سعودی سرکاری تقریبات کے دوران میں شاہی خاندانوں اور سفارت کاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سرکاری شاہی سلامی کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔

یہ موسیقی اصل میں مصر کے شاہ فاروق نے 1947 میں شاہ عبدالعزیز کے مصر کے دورے کے موقع پر تحفے کے طور پر پیش کی تھی۔ موسیقار عبدالرحمٰن خطیب نے اس وقت شاہ عبدالعزیز کے اعزاز میں منعقدہ سرکاری استقبالیہ تقریب کے دوران میں ذاتی طور پر اس موسیقی کو پیش کیا تھا۔

1980ء کی دہائی میں ، سعودی شاعر ابراہیم خفاجی کو شاہی سلامی کے ٹکڑے میں گیت شامل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور انھوں نے اس کو مملکت کے سرکاری شاہی ترانے میں تبدیل کردیا۔

یہ ترانہ قوم سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اللہ کی کبریائی بیان کرتے اور سعودی عرب کے بادشاہ کی درازیِ عمر کی دعا کرتے ہوئے عظمت ووقار کے لیے جدوجہد کرے۔

علامتی سعودی پرچم

سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر قومی پرچم بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ سفید خطاطی کے ساتھ سبز پرچم ملک بھر میں گہری اہمیت کا حامل ہے۔اس پر اسلامی عقیدے کا اعلان کلمہ کی صورت میں موجود ہے۔

گذشتہ کئی سال سے سعودی عرب کا پرچم قومی اتحاد اور فخر کی علامت بنا ہوا ہے۔ اس نے ملک کو اہم تاریخی واقعات سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے ، جس میں تیل کی دریافت اور جدید کاری کی کوششیں شامل ہیں۔ان پیش رفتوں نے سعودی عرب کو ایک عالمی معاشی اور سیاسی کھلاڑی بنا دیا ہے۔

آج بھی سعودی عرب کا پرچم بلند و بالا لہرا رہا ہے۔یہ سعودی عرب کی اقدار، تاریخ اور امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں