شامی صدر کا اپنے ملک کی تعمیر نو میں مدد کے حصول کے لیے چین کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کے صدر بشار الاسد آج جمعرات کو اتحادی ملک کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر چین پہنچے ہیں۔ بشارالاسد جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

چین تیسرا غیر عرب ملک ہے جس کا بشارالاسد نے 2011ء سے اپنے ملک میں جاری تنازعات کے دوران دورہ کیا۔اس سے قبل وہ روس اور ایران کےدورے کرچکے ہیں۔ وہ چین کو بھی اپنے اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ دورہ ایک سال قبل بشار الاسد کی بین الاقوامی میدان میں بتدریج واپسی کے فریم ورک کے اندر آتا ہے۔ دوسری طرف امریکا اور مغرب نے شام پر کڑی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔

اس طرح بشارالاسد آخری سربراہ مملکت بن گئے جن کے دور میں شام وسیع پیمانے پر دنیا میں تنہائی کا شکار ہے۔ شامی صدر نے اس سال وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کے بعد چین کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد شام میں تعمیر نو کے لیے چین سے امداد حاصل کرنا بتایا جاتا ہے۔

بشارالاسد کے ساتھ ان کی اہلیہ اسماء اور ایک سیاسی اور اقتصادی وفد بھی ہے اور اس دورے میں ہانگ زو اور بیجنگ کے شہروں میں ملاقاتیں اور تقریبات میں شرکت شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں