برطانیہ میں پردہ دار خاتون کی عزت افزائی کے لیے بڑا مجسمہ

یہ مجسمہ پانچ میٹر اونچا اور ایک ٹن وزنی ہے اور اسے آرٹسٹ لیوک پیری نے ڈیزائن کیا تھا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں پردہ دار خواتین کو عزت دینے کے حوالے سے ایک بہت بڑے مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی جو کہ ایک پردہ دار خاتون کی نمائندگی کرنے والا فنکارانہ مجسمہ ہے جب کہ برطانیہ کے مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مجسمہ ہے۔

نیا مجسمہ با حجاب خواتین کے اعتراف کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس آرٹ ورک کو "دی پاور آف حجاب" کہا گیا ہے۔

اسے آرٹسٹ لیوک پیری نے ڈیزائن کیا ہے، اور اسے اگلے اکتوبر میں ویسٹ مڈلینڈز کے سمتھ وِک علاقے میں نصب کیا جائے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مجسمہ سر ڈھانپنے والی خواتین کو منانے والا دنیا کا پہلا مجسمہ ہے۔

دی پاور آف حجاب مجسمہ
دی پاور آف حجاب مجسمہ

مجسمہ پانچ میٹر (16 فٹ) لمبا ہے اور اس کا وزن تقریباً ایک ٹن ہے۔ اس کا اہتمام برمنگھم کی تارکین وطن کمیونٹیز کے ورثے کو منانے والی ایک تنظیم کی جانب سے کیا گیا۔

مشہور مجسمہ ساز لیوک پیری نے کہا کہ "حجاب کی طاقت ایک ایسا ٹکڑا ہے جو اسلامی عقیدے کے حجاب پہننے والی خواتین کی نمائندگی کرتا ہے، اور یہ واقعی اس لیے موجود ہے کیونکہ یہ ہماری کمیونٹی کا ایک ایسا حصہ ہے جس کی نمائندگی نہیں کی جاتی، لیکن یہ ایک اہم حصہ ہے۔"


پیری نے اس سے قبل کنعان براؤن کے ساتھ ایک مجسمہ ڈیزائن کیا تھا جس کا نام تھا "بلیک برٹش ہسٹری برٹش ہسٹری ہے"۔ اسے گزشتہ مئی میں ونسن گرین میں نصب کیا گیا تھا۔

پیری نے تسلیم کیا کہ نیا مجسمہ "متنازعہ" ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں رہنے والے ہر فرد کی نمائندگی کرنا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں