درنہ ڈیم کے ٹوٹنے کی وجہ 2011 سے ریاست نہ ہونا ہے: سیف الاسلام قذافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے کہا ہے کہ درنہ ڈیم کے ٹوٹنے جس نے ہزاروں افراد ہلاک اور شہر تباہ ہوگیا کی وجہ لیبیا میں 2011ء سے ریاست کا فقدان اور ملک میں پھیلی افراتفری ہے۔

سیف الاسلام قذافی جو 2019 کے موسم خزاں کے بعد سے منظر عام سے غائب تھے نے مزید کہا کہ درنہ میں ڈیم ان کے والد [کرنل معمر قذافی] کے دور میں 1970ء کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔ اس کا ٹوٹنا ریاستی اداروں کی عدم موجودگی کی عکاسی کرتا ہے۔ سنہ 2011ء سے قبل کی طرح ماہرین اور سپروائزر کسی بھی ہنگامی صورتحال کی اطلاع دینے کے لیے ڈیم کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے تو یہ حادثہ نہ ہوتا۔

جمعے کی شام کو جاری کیے گئے ایک بیان میں قذافی کے بیٹے نے 2011 سے ملک میں یکے بعد دیگرے انتظامی حکام پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کے عوام یہاں اور وہاں بکھری ہوئی حکومتوں کے درمیان ایک مضحکہ خیز، بچگانہ تصادم کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے 2011ء کے بعد درنہ ڈیم اور ملک کے تمام ڈیموں کے لیے مختص کیے گئے بجٹ کے غائب ہونے کے بارے میں بات کی، جن کا تخمینہ کروڑوں ڈالر لگایا گیا ہے۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ درنہ کی تباہی کے حجم کو جس چیز نے دوگنا کیا وہ سکیورٹی حکام تھے جنہوں نے مکینوں کو وہاں سے نہ نکلنے کو کہا۔

انہوں نے درنہ کی تعمیرنو کے لیے مختص کیے جانے والے بجٹ کی چوری کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ جو جماعتیں درنہ کی تباہی کے نتیجے میں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے دو سال قبل کیے گئے 2 بلین ڈالر کے وعدے پورے نہ کرنے والے دس ارب ڈالر کا وعدہ کیسا پورا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بے گھر ہونے والوں کا مسئلہ حل نہیں کیا جائے گا۔درنہ کی تعمیر نو نہیں کی جائے گی۔ اس کا ڈیم جو 50 سال پہلے بنایا گیا تھا، دوبارہ نہیں بنایا جائے گا۔ یہ بن غازی، سرتہ، تاورغا اور جنوبی طرابلس کو تباہ کر دیا گیا تھا اور جھوٹے وعدوں کے باوجود ابھی تک دوبارہ تعمیر نہیں کیا جا سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں