سیاحوں کیخلاف نفرت انگیز حملوں کے مجرموں کو عدلیہ سزا دے گی: ایردوان

شامی پناہ گزینوں کے خلاف تواتر سے حملے ہوتے تھے، اب غیر ملکی سیاحوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ میں سیاحوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں کے مرتکب افراد کو عدلیہ ضرور سزا دے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی ریاست نیویارک کے دورے کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ترک صدر نے کہا ترکیہ ایک قانون کی ریاست ہے اور ہمارے مہمانوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں کے مرتکب افراد کو قانون کے سامنے ضروری سزائیں دی جائیں گی۔ جس چیز پر میں ہمیشہ اصرار کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمیں خاص طور پر سیاحتی علاقوں میں وہ زبان استعمال کرنے کی ضرورت ہے جو سیاح اشاروں میں سمجھتے ہیں۔ ہم اس راستے پر نہیں چل سکتے جو اپوزیشن اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نسل پرستی اور اسلام دشمنی ان اہم مسائل میں سے ہیں جن سے دنیا دوچار ہے اور ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ نسل پرستی کا وائرس یورپی ملکوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک عالمی وبا میں بدل گیا ہے۔ یہ وہ یورپ ہے جہاں کے افراد خود کو تہذیب کا گہوارہ بھی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ملک بھی اس وبا سے متاثر ہوا ہے۔ مغرب میں جو حلقے دوسروں سے نفرت پھیلانا چاہتے ہیں وہ کچھ مقامات پر کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں ان حلقوں کے نمائندے موجود ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی یہ بارودی سرنگیں ترکیہ میں نہیں پھٹیں گی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترکیہ میں سکیورٹی حکام اس طرح کی اشتعال انگیزیوں کے خلاف انتہائی احتیاط برت رہے ہیں اور اپنے اقدامات کو دن بہ دن تیز کر رہے ہیں۔

یاد رہے ترکیہ میں حالیہ مہینوں میں خاص طور پر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے دوران غیر ملکیوں کے خلاف "نفرت" والی تقریروں نے سیاحوں اور پناہ گزینوں پر جسمانی حملوں میں یکساں اضافہ کیا ہے۔

پناہ گزینوں کے حقوق سے متعلق تنظیموں کے مطابق اس کی وجہ مقامی ذرائع ابلاغ اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے شامیوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرنے والی اشتعال انگیز مہم ہے۔ یہ مطالبہ انتہائی دائیں بازو کی "النصر" پارٹی کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں