صومالیہ کے شہر بلدوین میں ٹرک بم دھماکا؛کم سے کم 10 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صومالیہ کے وسطی شہر بلدوین میں ہفتے کے روز ایک چیک پوسٹ پر ٹرک بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم سےکم 10 افراد ہلاک اور قریبی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس بم حملے میں کون سا گروپ ملوث ہے لیکن شدت پسند گروپ الشباب اکثر صومالیہ میں اس طرح کے بم دھماکے کرتا رہتا ہے۔

علاقے کے پولیس افسر احمد عدن نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں فوجیوں اور عام شہریوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں ایک درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوئےہیں۔ان میں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

بلدوین صومالیہ کے وسطی علاقے ہیران میں واقع ہے جہاں حال ہی میں فوج اور الشباب کے درمیان لڑائی ہوئی ہے۔عدن کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔انھوں نے چیک پوائنٹ پر ٹرک کو روکنے کی ناکام کوشش میں اس پر فائرنگ کی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ بم دھماکے کے نتیجے میں چیک پوائنٹ سے ملحقہ متعدد قریبی عمارتیں اور دکانیں ملبے میں تبدیل ہو گئی ہیں۔

جائے وقوعہ پر موجود حلیمہ نور نامی ایک خاتون نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’میری بھتیجی اور دیگر لوگ دھماکے کے وقت دکان میں تھے مگر اس کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کہوں، سبھی دکانیں اب صرف ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ میں اپنی بھتیجی کا سراغ نہیں لگا سکتی ہوں‘‘۔

الشباب صومالیہ کی مرکزی حکومت کے خلاف گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے برسرپیکار ہے۔اس کا مقصد شرعی قوانین کی سخت تشریح پرمبنی اپنی حکومت کا قیام ہے۔اس نے صومالی سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہری مقامات پر بیسیوں تباہ کن بم حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں