کیا سکھ کینیڈا سے انڈیا آنے والے مسافر طیارے کوبم سے اڑانے میں ملوث تھے؟َ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ان دنوں کینیڈا اور بھارت کے درمیان ایک سکھ لیڈر کی مبینہ طور پر بھارتی انٹیلی جنس کے بیرون ملک آپریشن میں ہلاکت کے بعد کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سکھوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کی لہر نئی نہیں بلکہ برسوں قبل بھی کینیڈا اور انڈیا کے تعلقات سکھ علاحدگی پسندوں کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

سنہ1980 کی دہائی کے اوائل کی بات ہے جب ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں سکھوں اور ہندوؤں کے درمیان کشیدگی عروج پر رہی۔

اس عرصے کے دوران سکھوں نے بھارتی پنجاب پر مشتمل خالصتان ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا، جس سے بھارتی حکام کی تشویش بڑھ گئی۔ بھارتی حکومت نے سکھوں کی الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ مسترد کردیا

سنہ 1984ء میں انڈین حکام نے سکھوں کے مذہبی گوردوارے پر دھاوا بولا جس کے نتیجے میں سینکڑوں سکھ جان سے گئے مگر اس کارروائی نے بحران دو چند کردیا۔ جواب میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے دو محافظوں نے اس وقت کی ہندوستانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کوگولیاں مار کر قتل کردیا۔

اگلے سال ٹورنٹو، کینیڈا اور لندن کے درمیان پرواز کے دوران انڈین ایئر لائنز کے طیارے کو نشانہ بنانے کے بعد تشدد میں مزید جانیں گئیں۔

ہوائی جہاز میں بم حملہ

23 جون 1985ء کو ایک بوئنگ 747 جس کا تعلق انڈین ایئر لائنز سے تھا۔ فلائٹ نمبر182 ٹیک آف کیا۔ یہ پرواز ٹورنٹو سے ممبئی کے لیے روانہ ہوئی۔

پرواز کی اگلی منزل لندن تھی۔

مونٹریال ہوائی اڈے پر اپنے رکنے کے دوران پرواز 182 کو کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کینیڈا کے سکیورٹی اہلکاروں نے طیارے کی تلاشی لی اور 3 مشکوک بیگز قبضے میں لے لیے۔

اس کے بعد ہیتھرو ہوائی اڈے کے ٹاور کے ساتھ اس کے مواصلاتی چینلز کے موافق ہوائی جہاز نے لندن کے لیے وقت پر اڑان بھری۔ آمد کے مقام سے 45 منٹ کی دوری پر فلائٹ 182 اچانک اور پراسرار طور پر ریڈار سے غائب ہو گئی جس نے کینیڈا، برطانیہ اور بھارت کے حکام کےلیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

موقع پر ہیتھرو ایئرپورٹ کے حکام نے برطانوی حکام کو فوری اپیل بھیجی، جنہوں نے بھارتی طیارے کے لاپتہ ہونے کے مقام پر تلاش اور امدادی ٹیمیں بھیجنے کا کام شروع کردیا۔

آئرلینڈ کے ساحل سے 190 کلومیٹر دور ایک بھارتی بوئنگ 747 کی باقیات ملیں۔ امدادی کاموں کے دوران برطانوی ریسکیو کارکنوں اور حکام نے 131 افراد کی لاشیں برآمد کیں جو ایئر انڈیا کی پرواز 182 میں سوار تھے۔

اس وقت جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی بوئنگ 747 طیارے میں سوار تمام مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ مرنے والوں میں 268 کینیڈین، 27 برطانوی اور 24 بھارتی شہری تھے۔

سکھوں کا الزام

سکھوں اور ہندوؤں کے درمیان تشدد کی وجہ سے تفتیش کاروں نے بھارتی بوئنگ 747 کو کینیڈا سے ٹیک آف کرنے کے بعد سکھ انتہاپسندوں کی طرف سے اس کے اندر رکھے ہوئے بم سے اڑانے کی تحقیقات شروع کیں۔

اسی دن کے دوران، جاپان نے اسی طرح کا ایک حملہ ناکام بنایا جس میں کئی لوگوں نے جاپان کے ناریتا ہوائی اڈے پر ایئر انڈیا کی پرواز 301 کو اڑانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ یہ حملہ ناکام ہو گیا کیونکہ بم وقت سے پہلے پھٹ گیا اور ہوائی اڈے پر کارگو ٹرانسپورٹ کے دو کارکنوں کی موت ہو گئی۔

دوسری جانب تفتیش کاروں نے کینیڈا سے اڑان بھرنے والی فلائٹ 182 کے بم دھماکے میں کئی فریقوں کے ملوث ہونے کا عندیہ دیا۔ اس حادثے کے پیچھے سکھ ببر خالصہ تنظیم پر اٹھائی گئی۔ یہ ایک علاحدگی پسند تنظیم تھی۔

اگلے مہینوں میں کینیڈا کی پولیس نے دو ہندوستانیوں کو گرفتار کیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ اس حملے سے منسلک تھے۔ پہلے ملزم تلویندر سنگھ پرمار کو اس کے خلاف کافی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی رہا کر دیا گیا۔ بعد میں موخر الذکر انڈیا میں پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا۔ دوسرے ملزم اندرجیت سنگھ ریات کو جاپان کے ناریتا ہوائی اڈے پر بم دھماکے میں استعمال ہونے والے بم بنانے میں ملوث ہونے کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں