امریکی کمیشن نے فرانس میں عبایا پر پابندی مسلم طالبات کو ہدف بنانے کا آلہ قرار دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے فرانس کے سرکاری اسکولوں میں عبایا اور ڈھیلے لباس پہننے پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ فرانس اپنی مسلم آبادی کو نشانہ بنانے اور ڈرانے دھمکانے کے لیے سیکولرازم کا استعمال کر رہا ہے۔

کمیشن کے چیئرمین ابراہم کوپر نے ایک سرکاری بیان میں کہا:’’فرانسیسی اقدار کو فروغ دینے کی گمراہ کن کوشش میں، حکومت مذہبی آزادی کو گرفت میں لے رہی ہے۔فرانس مذہبی گروہوں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ڈرانے دھمکانے کے لیے سیکولرازم کی مخصوص تشریح جاری رکھے ہوئے ہے‘‘۔

کوپر نے ستمبر میں جاری کردہ بیان میں کہا کہ اگرچہ کسی بھی حکومت کو اپنی آبادی پر ایک مخصوص مذہب مسلط کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرنا چاہیے ، لیکن سیکولرازم کو فروغ دینے کے لیے افراد کے مذہبی عقائد کے پُرامن عمل کو محدود کرنا بھی قابل مذمت ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2004 میں منظور کردہ ایک فرانسیسی قانون کے مطابق اسکولوں میں کسی بھی قسم کی مذہبی علامت یا لباس جیسے یہودی کپا، عیسائی صلیب یا اسلامی حجاب پہننا ممنوع ہے۔

حالیہ مہینوں میں، فرانسیسی عوامی مباحثے نے یہ سوال اٹھانا شروع کردیا ہے کہ آیا عبایا فرانس کی سیکولرازم کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

مذکورہ قانون کی تعمیل کی کوشش کرنے والے اسکول حکام کو یقین نہیں تھا کہ عبایا کو کس طرح ریگولیٹ کیا جائے۔عبایا کو بنیادی طور پر مسلم لڑکیاں اپنی عاجزی اور مذہبی ذمہ داری کے حصے کے طور پر پہنتی ہیں۔ حجاب کے برعکس عبایا پہننے والی مسلم خواتین بالخصوص طالبات کو اس سال تک کسی مکمل پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

اس بات پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے کہ آیا یہ مذہبی لباس ہے، فرانسیسی وزیر تعلیم نے ستمبر میں معیاری ہدایات جاری کی تھیں جس کے تحت سرکاری طور پرطالبات کو تعلیمی اداروں میں عبایا پہننے سے روک دیا گیا تھا۔

فرانس میں نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر جب اسکول 4 ستمبر کو کھلے تھے تو پہلے دن قریباً 300 لڑکیاں عبایا پہن کر اسکول گئیں۔ اگرچہ بہت سی طالبات نے عبایا کو اسکول میں جاکر اتار دیا تھا تاکہ وہ کلاسوں میں شرکت کرسکیں ، لیکن درجنوں لڑکیوں نے اپنے مذہب کی بنیاد پر ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر انھیں کسی تعلیمی عمل میں شرکت کے بغیر واپس گھر بھیج دیا گیا۔

امریکی کمیشن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 2004 کے اس قانون نے فرانس میں تمام مذہبی گروہوں کو متاثر کیا ہے لیکن مسلم لڑکیوں کو اس کی منظوری کے بعد سے خاص طور پرجانچ پڑتال اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔فرانس کے اس ضمن میں اقدامات شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (یو ڈی ایچ آر) دونوں کے آرٹیکل 18 کے بالکل برعکس ہیں۔یہ ہر شخص کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں علامتوں یا لباس کے ذریعے اپنے مذہبی عقائد کو ظاہر کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف کے کمشنر نوری ترکل نے ہفتے کے روز ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا:’’یہ ایک غیر منصفانہ پابندی ہے اور یہ ان لڑکیوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو اپنا نسلی اور مذہبی لباس پہننے کا انتخاب کرتی ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں خاص طور پراس بات پر شدید تشویش لاحق ہے کہ بعض بیانات خود صدر عمانوایل ماکرون کی جانب سے آ رہے ہیں جن میں عبایا پر پابندی کو مذہبی لباس سے جوڑ کر دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے‘‘۔

فرانسیسی صدر نے رواں ماہ میں ملک کے جنوبی علاقے ووکلوس میں ایک پروفیشنل اسکول کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’’فرانسیسی حکام اسکولوں میں عبایا پر نئی پابندی کے نفاذ میں سمجھوتا نہیں کریں گے‘‘۔

انھوں نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے ملک میں اسکول سیکولر، مفت اور لازمی ہیں۔ لیکن وہ اس لیے سیکولر ہیں کیونکہ یہی وہ شرط ہے جو شہریت کو ممکن بناتی ہے۔اس لیے ان میں کسی بھی قسم کی مذہبی علامتوں کی کوئی جگہ نہیں ہےاور ہم اس سیکولرازم کا بھرپور دفاع کریں گے‘‘۔

ماکرون نے مزید کہا کہ ’’جب پابندی کے نفاذ کی بات آتی ہے تو فرانسیسی اسکولوں کے اساتذہ اور سربراہان کو اکیلے نہیں چھوڑا جائے گا‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ’’فرانسیسی حکام اس معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے‘‘۔

فرانس میں عبایا پر پابندی کو حزبِ اختلاف کے کئی قانون سازوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن میں ڈینیل اوبونو بھی شامل ہیں۔انھوں نے اسے ’اسلاموفوبیا کی نئی مہم‘ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں