سعودی عرب کا اپنی جوہری سرگرمیوں کو آئی اے ای اے کی کڑی نگرانی میں دینے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے نگران ادارے (آئی اے ای اے) کی جانب سے اپنی جوہری سرگرمیوں کی ہلکی پھلکی نگرانی ختم کرنے اور اس کے بجائے مکمل حفاظتی اقدامات پرعمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے پیرکو آئی اے ای اے کی سالانہ جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے حال ہی میں اپنے چھوٹی مقدار کے پروٹوکول کو منسوخ کرنے اور مکمل جامع حفاظتی اقدامات کے معاہدے پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب کا جوہری پروگرام ابھی نوزائیدہ ہے۔اسے وہ توسیع دینا چاہتا ہے اور اس میں بتدریج یورینیم کو افزودہ کرنے کی سرگرمیاں شامل کرنا چاہتا ہے۔

تاہم اس نے ابھی تک اپنے پہلے جوہری ری ایکٹر کو فعال نہیں کیا ہے ، جس کی وجہ سے اس کے پروگرام کی ابھی چھوٹی مقدار کے پروٹوکول (ایس کیو پی) کے تحت نگرانی کی جاسکتی ہے۔ یہ ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ ایک معاہدہ ہے جو کم ترقی یافتہ جوہری پروگرام کی حامل ریاستوں کو رپورٹنگ کی بہت سی ذمے داریوں اور معائنے سے مستثنا قرار دیتا ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گراسی درجنوں ممالک سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام میں ترمیم کریں یا اسے منسوخ کردیں۔ وہ اس کوایک 'کمزورنظام' قرار دیتے ہیں۔ان کا ادارہ برسوں سے سعودی عرب کے ساتھ جامع حفاظتی معاہدے (سی ایس اے) میں تبدیلی کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

اگر سعودی عرب اپنے پہلے جوہری ری ایکٹر میں جوہری مواد متعارف کرواتا ہے، تو اس سے اس کا ایس کیو پی اور اس کے باقاعدہ حفاظتی اقدامات سے استثنا ختم ہو جائے گا۔سعودی عرب کا الریاض میں ایک کم طاقت والا ریسرچ ری ایکٹر تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

شہزادہ عبد العزیز نے یہ نہیں بتایا کہ کیا باقاعدہ سی ایس اے کے علاوہ سعودی عرب آئی اے ای اے کے اضافی پروٹوکول پر دست خط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو کسی بھی وقت فوری معائنے کے علاوہ وسیع پیمانے پر اورمداخلت والی جانچ پڑتال کی اجازت دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں