لیبیا: درنہ کے میئر اور دیگر حکام شہر میں تباہ کن سیلاب کے بعد زیرِحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے مشرقی شہر درنہ کے میئر اور دیگر حکام کو دو ہفتے قبل سیلاب کا سبب بننے والے ڈیموں کی تباہی کے معاملے میں بدانتظامی اور بے پروائی کے شُبے میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

دارالحکومت طرابلس میں واقع اٹارنی جنرل کے دفتر نے پیر کے روز ان گرفتاریوں کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اس نے سمندری طوفان میں ڈیموں کے منہدم ہونے پر آٹھ مقامی عہدے داروں کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ان میں درنہ کے میئر اور آبی وسائل کے انچارج افسر بھی شامل ہیں لیکن باقی افراد کی اس نے شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

درنہ کے مشتعل مکینوں نے حکام کو ڈیموں کے منہدم ہونے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔یہ شہر سے گذرنے والے موسمی دریاؤں میں پانی کے تیزبہاؤ کو روکنے اور کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

ان ڈیموں کی مرمت کے لیے 2007ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا لیکن 2011 میں سابق مطلق العنان صدر معمرقذافی کا تختہ الٹنے کے بعد اس پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ان کے خلاف نیٹو کی حمایت اور سرپرستی میں مسلح بغاوت کے نتیجے میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران میں لیبیا کا شہری ڈھانچا تباہ ہوچکا ہے۔درنہ پر 2019 تک داعش سمیت متعدد گروپوں کے جنگجوؤں کا کنٹرول رہا تھا۔

مظاہرین نے گذشتہ ہفتے درنہ کے میئرعبدالمنعم الغیثی کے گھر کو آگ لگا دی تھی اور ملک کے مشرقی حصے میں قائم انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انھیں معطل کردیا گیا ہے اور پوری سٹی کونسل کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

سیلاب میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں جبکہ سیکڑوں پوری پوری عمارتیں سمندرمیں بہ گئی تھیں۔ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں ملبے کے نیچے اور شہر کی بندرگاہ سے لاشیں نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اب زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

سیلاب اور بچاؤ کی کوششوں نے طرابلس میں قائم مرکزی حکومت اور لیبیا کے مشرق میں قائم حریف انتظامیہ کے درمیان تناؤ کو بھی بے نقاب کیا ہے۔یہ انتظامیہ ملک کے مشرق حصے کو کنٹرول کرتی ہے اور دارالحکومت میں حکام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں