آئرلینڈ: بھوری رنگ کی لڑکی سے نسل پرستانہ رویہ، عوام میں شدید غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آئرلینڈ میں جمناسٹک مقابلے کے دوران ایک لڑکی اس وقت اٹھ کھڑی ہوئی جب اسے نوجوان شرکاء میں تمغے تقسیم کرنے والے اہلکار کی طرف سے نظر انداز کر دیا گیا۔

چھوٹی بچی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ تھوڑا آگے بڑھے اور قطار سے باہر نکلے۔ شاید کسی کو اس "غلطی" کا احساس ہو جائے مگراس کی بات کسی نے نہیں سنی اور اسے نظرانداز کیا گیا۔

اہلکار نے اپنا کام جاری رکھا اور تمام شرکاء میں تمغے تقسیم کیے مگر بھورے رنگ کی لڑکی برونیٹ کو نظرانداز کیا اور اسے پریشان کردیا۔ وہ حیران کھڑی تھی حالانکہ اس کے ہاتھ میں آخری ایک تمغہ بچا تھا۔

اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں لڑکی کے ساتھ "نسل پرستانہ" طرزعمل ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ویڈیو گذشتہ دو دنوں کے دوران دنیا بھر کے سوشل میڈیا سائٹس اور میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی حالانکہ یہ واقعہ سال مارچ 2022 کا ہے۔

چھوٹی لڑکی کے خاندان نے جس نے شناخت ظاہر نہیں کی وضاحت کی کہ آئرش جمناسٹک فیڈریشن نے نوجوان جمناسٹ کو معافی کا ذاتی خط بھیجنے یا کسی بھی قسم کی نسل پرستی کی موجودگی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

معذرت سے انکار

لڑکی نے انکشاف کیا کہ فیڈریشن نے معافی مانگنے اور مفاہمت کے سیشن میں شرکت سے انکار کر دیا۔

دی گارڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق اہل خانہ نے کہا کہ "یونین کے نمائندوں نے واقعے کو خاندان اور اہلکار کے درمیان خالصتاً ذاتی تنازعہ قرار دیا" ۔

لڑکی کی ماں نےصدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک اس کی بچی کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناقابل یقین ہے۔‘‘ اس کا خیال تھا کہ اس واقعے نے مجموعی طور پر نظام میں ایک مسئلے کی موجودگی کو ظاہر کیا، کیونکہ یونین کی خاموشی اور ایک سال سے زیادہ گذر جانے کے باوجود عوامی سطح پر معافی مانگنے یا مسئلہ اٹھانے سے انکار کا مطلب ہے کہ جو کچھ ہوا اس سے وہ خوش اور مطمئن ہے۔

تاہم بین الاقوامی سطح پر اس واقعے پر سوشل میڈیا پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہ اہے۔

عالمی رد عمل کے بعد فیڈریشن نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اس نے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پراسے تشویش ہے۔ فیڈریشن کا کہنا تھا کہ ملوث اہلکار نے خاندان کو تحریری معافی بھیجا۔

قابل ذکر ہے کہ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ کئی مشہور شخصیات نے اس آئرش جمناسٹک اہلکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے رویے کو نسل پرستانہ قرار دیا۔

امریکی جمناسٹک چیمپئن سیمون بائلز نے اس بچی کے لیے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ " ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو نے میرا دل تو دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں