سعودی عرب

تجزیہ:ایم بی ایس کے تاریخی انٹرویو کے بعد امریکا، سعودی عرب دوطرفہ تعلقات میں نیا موڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات حالیہ مہینوں میں تبدیل ہوتے اور اس کے بجائے مستحکم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔اس کا ایک نتیجہ گذشتہ ہفتے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کے بارے میں مثبت تبصرے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

اڑتیس سالہ سعودی رہ نما شہزادہ محمد بن سلمان نے ، جو اب مغربی میڈیا میں ایم بی ایس کے مخفف سے زیادہ معروف ہیں، 2019 کے بعد کسی مغربی ادارے کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں انگریزی زبان میں بات کرنے کا انتخاب کیا۔

اس سے لاکھوں امریکیوں کو ولی عہد کو براہ راست سننے کا موقع ملا اور مغرب کے بارے میں اکثر خیال کی جانے والی بہت سی خرافات کو مسترد کر دیا گیا۔

سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے العربیہ کو بتایا کہ ولی عہد نے انٹرویو میں یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات ایک بڑے موڑ پر پہنچ چکے ہیں اور اب بہت اچھی جگہ پر ہیں۔

ایم بی ایس نے یہ انٹرویو بحیرہ احمر کے پہلے جزیروں میں سے ایک میں بیٹھ کر ریکارڈ کرایا تھا اور وہاں سے بات کرتے ہوئے دراصل ایک ایسے ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ایک جھلک پیش کی ہے جو پہلے صرف گرم موسم ، صحرا اور تیل کے لیے جانا جاتا تھا۔توقع ہے کہ اس جزیرے کو سیاحوں کے لیے جلد کھول دیا جائے گا۔

بائیڈن انتظامیہ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ جو بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کو ’وہ ملک‘ بنانے کے انتخابی وعدے پورے نہیں ہوئے اور امریکی صدر نے گذشتہ موسم گرما میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے الریاض کو تیل کی پیداوار برقرار رکھنے اور اس میں کمی نہ کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

سعودی عرب اور اوپیک پلس کے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے عہدے داروں نے سعودی عرب پر روس کا ساتھ دینے کا الزام عاید کیا اور اس سے قبل پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

یہ سب اس وقت رونما ہوا تھا جب بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحہ کی فروخت منجمد کردی تھی اور یمن جنگ میں ان کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے دونوں کو نشانہ بنایا تھا۔

لیکن اس کے بعد حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔امریکا اور سعودی عرب کے تعاون سے یمن میں تشدد میں کمی لانے میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکا اور سعودی عرب نے یوکرین میں جنگی قیدیوں کی رہائی اور کِیف کو معاشی مدد مہیا کرنے، سوڈان میں تشدد پرقابو پانے میں تعاون اور حال ہی میں الریاض اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کے لیے مل کر کام کیا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اب سعودی اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے پر زور دیا جا رہا ہے اور ان میں امن معاہدہ کانگریس میں ایک طویل سفر طے کرے گا۔اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں میں بہت سے ترقی پسند ڈیموکریٹس بھی شامل ہوسکتے ہیں جو سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے مضبوط تعلقات کی مخالفت کرتے ہیں۔

ایم بی ایس نے کہا کہ اگر بائیڈن انتظامیہ سعودی اسرائیل معاہدے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سب سے بڑا تاریخی معاہدہ ہو سکتا ہے۔

فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں ایم بی ایس نے ان امور پر بات کی جو اوسط امریکی گھرانے سے براہ راست مطابقت رکھتے ہیں۔انھوں نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مضبوط تعلقات کی طرف اشارہ کیا جو دونوں کو متحد کرتے ہیں۔انھوں نے سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ امریکا میں اسلحہ کے برآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کے لیے معاشی طور پر اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان فوجی اور سکیورٹی تعلقات مملکت کو مضبوط کرتے ہیں اور خطے اور عالمی سطح پر امریکا کے لیے ایک نعمت ہیں۔ ایم بی ایس نے روس اور چین سمیت امریکی مخالفین سے فوجی سازوسامان خریدنے کے ممکنہ آپشنز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’آپ نہیں چاہتے کہ اسے منتقل کیا جائے، اور آپ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب اپنا اسلحہ کسی دوسری جگہ منتقل کرے‘‘۔

تاہم ایم بی ایس کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ضمانت دے گا اور سعودی عرب اس کا خواہاں ہے کیونکہ اس طرح کے معاہدے سے سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں اور سکیورٹی کے لیے دوسری جگہوں کا رُخ نہ کرنے کی کوششوں اور سر دردی سے بچا جا سکے گا۔

دریں اثناء سی این این سے گفتگو میں واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینیر فیلواور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر فراس مکسد نے فاکس نیوز سے ایم بی ایس کے انٹرویو کو’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم سے کم جہاں تک مغربی رائے عامہ کا تعلق ہے، ایم بی ایس کے لیے یہ ایک طرح سے واپسی کا انٹرویو ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں