سعودی عرب

سعودی عرب: سرکاری حکام اورتارکینِ وطن سمیت متعدد افراد بدعنوانی کے الزامات پرگرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سعودی عرب کے محکمہ انسداد بدعنوانی (کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی ،نزاہہ) نے بدعنوانی کے الزامات میں متعدد سکیورٹی افسروں، سرکاری ملازمین اور تارکین وطن کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔اب اتھارٹی ان کے کیسوں کوعدالتوں میں بھیجنے سے پہلے قانونی طریق کار کو مکمل کررہی ہے تاکہ ان کے خلاف مقدمات چلائے جا سکیں۔

اتھارٹی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ گرفتار افراد میں فوجداری عدالت کا ایک ملازم اور ایک وکیل بھی شامل ہے۔ انھیں ایک زیرِالتوا کیس میں ایک شہری کی بریت کے فیصلے کی توثیق کے بدلے میں 15 لاکھ ریال کی رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ دو شہریوں کو اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جب انھوں نے اپنے بھائی کے حصے کی مد میں 10 لاکھ ریال وصول کیے۔یہ بھائی اسی عدالت میں کیس کی سماعت کرنے والے جج ہیں اور ان جج صاحب کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

مالیاتی بینک کے ایک ملازم کی مدد سے 10 کروڑ ریال سے زیادہ مالیت کی فنانسنگ حاصل کرنے کے الزام میں ایک تاجر کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔نزاہہ کے بیان کے مطابق ایک اماراتی شخص کو اسپورٹ سروسز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کو غیر قانونی طریقے سے منصوبے دینے کے بدلے میں اپنے ایک جاننے والے سے تعلق رکھنے والے تجارتی ادارے سے ایک کروڑ 20 لاکھ ریال وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیاہے۔

ایک قانونی فرم کے مالک کو اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جب اسے ایک تجارتی ادارے کے مالک کی جانب سے ایک لاکھ 80 ہزار ریال موصول ہوئے۔اس کے خلاف ایک قانونی فرم اور لیگل کنسلٹنگ کمپنی سے رپورٹ جاری کرنے کے بدلے میں ایک کروڑ 10 لاکھ ریال کا کمرشل کیس زیر التوا ہے۔اسے اس کیس کی نگرانی کرنے والے جج نے ماہر مقرر کیا تھا۔ وکیل سے ایک لاکھ 70 ہزار ریال وصول کرنے پر ایک شہری کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ رقم رپورٹ جاری کرنے کے بدلے میں قانونی فرم کے مالک کا حصہ بتائی جاتی ہے۔

بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کے ایک افسرکو ایک غیر ملکی سے پانچ لاکھ نو ہزار ریال وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔یہ لیفٹیننٹ کرنل سول ڈیفنس کی ڈائریکٹ پرچیز کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے ہیں اور تارک وطن ایک تجارتی ادارے کے لیے کام کرتا ہے۔اس کرنل نے اس رقم کے بدلے میں تجارتی ادارے کو براہ راست سرٹی فکیٹ جاری کیے تھے اور مالی واجبات کی ادائی کے طریق کار میں سہولت فراہم کی تھی۔اس تارک وطن کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

ایک سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے والے ایک اور تارکِ وطن کو حراست میں لیا گیا ہے۔اس نے اتنی مقدار میں ادویہ اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی جو مریضوں کو مفت دی جاتی ہیں اور وہ قابل فروخت نہیں ہیں۔ محکمہ صحت میں کام کرنے والے ایک ملازم کو دو غیر ملکی مرد و خواتین ڈاکٹروں سے اکہترہزار ریال وصول کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔اس نے اس رقم کے بدلے میں ان ڈاکٹروں کی طبی درجہ بندی میں اس طرح ترمیم کی تھی جو ان کی قابلیت سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت دفاع میں آپریشنز اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے کرنل رینک کے ایک افسر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس نے 52 لاکھ 60 ہزار پانچ سو ریال مالیت کے منصوبے کے لیے رقم کی تقسیم کے طریق کار کو مکمل کرنے کے بدلے میں ایک تاجر سے زمین اپنے نام کروالی تھی۔اس اراضی کی مالیت نو لاکھ 20 ہزار ریال بتائی جاتی ہے۔ پبلک سکیورٹی کے تین نان کمیشنڈ افسروں کو تھانوں میں سیفٹی ڈپازٹ بکس سے آٹھ لاکھ 77 ہزار 522 ریال چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایک غیرملکی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کسٹمز اتھارٹی کے ایک ملازم کو مملکت سے روانگی کے وقت دو لاکھ ساڑھے 67 ہزار ریال کی رقم رکھنے کے بدلے میں رقم کی پیش کش کر رہا تھا۔ ایک سرکاری اسپتال کے کیشئر کو سیفٹی ڈپازٹ باکس سے ایک لاکھ 17 ہزار571 ریال کی رقم چرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

وزارت دفاع کے ساتھ معاہدے میں شامل ایک تجارتی ادارے میں کام کرنے والے ایک غیرملکی کو بھی رشوت میں رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔اس کو ایک کروڑ ریال کے معاہدے پر عمل درآمد میں خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کے بدلے میں 82 ہزار ریال دینے پر اتفاق ہوا تھا اور اس میں سے 7 ہزار ریال وصول کرتے وقت اس کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

ایک میونسپل ملازم اور انجینئرنگ کنسلٹنگ آفس میں کام کرنے والے ایک غیر ملکی بروکر کو بھی رشوت وصول کرتے وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔اس نے غیر قانونی طریقے سے چار تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے کے بدلے میں طے شدہ 60 ہزار سعودی ریال میں 30ہزار ریال وصول کیے تھے۔ایک اور میونسپل ملازم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک غیر قانونی کمرشل اسٹور کو بند کرنے کے بعد دوبارہ کھولنے کے بدلے میں 7000 ریال وصول کر رہا تھا۔ اقامتی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ایک غیر ملکی کو غیر قانونی طریقے سے اقامہ حاصل کرنے کے لیے 50 ہزار سعودی ریال ادا کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔

انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت کے ایک ملازم کو پبلک سروسز آفس کے مالک سے غیر قانونی طریقے سے 10 ہزار سے 25 ہزارریال تک عاید جرمانے کو کم کرانے کے بدلے میں 1500 ریال کی درخواست کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

نزاہہ نے بتایا ہے کہ ایک غیر ملکی کو اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جب اس نے 10 ہزار سعودی ریال میں سے 2000 ریال ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے کیے۔اس کے بدلے میں اس نے ایک مجرمانہ مقدمے میں زیرِحراست تین رہائشیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا۔ محکمہ پاسپورٹ میں کام کرنے والے دو سکیورٹی اہلکاروں کو ایک زمینی گذرگاہ پر ایک غیر ملکی سے اس کی بیوی کے مملکت میں جعلی داخلے اور اخراج کی کارروائی کے بدلے میں رقم وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں