فرانس کے انخلا کے فیصلے کے باوجود نیجر کی صورتحال نہیں بدلی: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کی جانب سے اس سال کے آخر میں نیجر سے اپنی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ فرانس کے نیجر سے انخلاء کے فیصلے سے وہاں امریکی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ مغربی افریقی ملک میں جولائی میں ہونے والی بغاوت کے بعد فرانس کی جانب سے نیجر سے اپنی افواج واپس بلانے کے فیصلے سے نیجر میں امریکی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ امریکہ ملک میں تقریباً 11 سو فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے پیر کو اعلان کیا کہ فرانس کی جانب سے بغاوت کا مشاہدہ کرنے والے ملک سے اپنے سفیر اور افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد واشنگٹن نیجر کے بحران کے حوالے سے اپنے مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لے گا۔ آسٹن نے کینیا کے دورے کے دوران نیروبی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب ہم سفارت کاری کو ایک موقع دیتے ہیں، تو ہم مستقبل کے کسی ایسے اقدامات کا بھی جائزہ لیتے رہیں گے جو ہمارے سفارتی اور سلامتی کے اہداف کو ترجیح دیں گے۔

فرانسیسی صدر میکرون نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ فرانس نیجر اور پھر فرانسیسی افواج سے اپنا سفیر واپس بلا لے گا۔ دو ماہ قبل نیجر بغاوت کی گئی اور پیرس کے وفادار صدر محمد بازوم کو معزول کر دیا گیا تھا۔

میکرون نے فرانسیسی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فرانس نے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آنے والے گھنٹوں میں ہمارے سفیر اور متعدد سفارت کار فرانس آ جائیں گے۔

بازوم واحد جائز اختیار

نیجر میں برسراقتدار فوجی جنتا نے فرانس کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ وہ سال کے آخر تک اپنی افواج کو ملک سے نکال لے گا۔ فوجی جنتا نے اس ارادے کو خودمختاری کی طرف ایک نیا قدم قرار دیا۔ دوسی طرف فرانس نے حکمران فوجی کونسل کے "احکامات" کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ فرانس اب بھی معزول صدر محمد بازوم کو قانونی حکمران سمجھتا ہے۔ بازوم کو صدارتی ہیڈ کوارٹرز میں اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ نظر بند رکھا گیا تھا۔

واضح رہے پیرس بازوم کو اقتدار میں واپس لانے اور آئینی نظم کو بحال کرنے کے لیے اکنامک کمیونٹی آف ویسٹ افریقن سٹیٹس (ECOWAS) کی مداخلت پر انحصار کر رہا تھا لیکن آخر کار اسے کوئی ایسا آپشن نہیں ملا جو اسے نیجر میں ہی برقرار رہنے دیتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں