مسلمان مخالف بیانیہ کے زور پر بھارت میں انتخابی کامیابی حاصل کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان!

ہندوتوا واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2023 کے پہلے چھ ماہ میں مسلم مخالف تقاریر کے 255 واقعات ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’’بھارت میں 2023 کے پہلے چھ ماہ کے دوران مسلمانوں کے خلاف اوسطاً ایک دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پیش آئے اور یہ واقعات ان ریاستوں میں زیادہ دیکھے گئے جہاں انتخابات ہونے والے تھے۔‘‘

خبر رساں ادارے رائٹرز نے اقلیتوں پر حملوں کی نگرانی کرنے والے گروپ ہندوتوا واچ کی رپورٹ کے حوالے سے اپنے تازہ مراسلے میں بتایا ہے ’’کہ 2023 کی پہلی ششماہی میں مختلف اجتماعات میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 255 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس سلسلے میں پچھلے سالوں کا کوئی تقابلی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔‘‘

ہندوتوا واچ نے نفرت انگیز تقریر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی تعریف کو استعمال کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’ابلاغ کی کوئی بھی ایسی شکل، جس میں مذہب، نسل، قومیت، رنگ، جنس یا دیگر شناختی عوامل کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ کے لیے متعصبانہ یا امتیازی زبان استعمال کی جائے۔‘

رپورٹ کے مطابق تقریباً 70 فیصد واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں 2023 اور 2024 میں انتخابات ہونے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انڈین ریاستوں مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، راجستھان، اور گجرات میں نفرت انگیز تقاریر کے اجتماعات کی سب سے زیادہ تعداد دیکھنے میں آئی اور صرف مہاراشٹر میں ایسے 29 واقعات ہوئے۔

ان واقعات میں سے تقریباً 80 فیصد وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر انتظام علاقوں میں رونما ہوئے، جس کا 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کا امکان ہے۔

ہندوتوا واچ نے کہا کہ رپورٹ کے سلسلے میں اس نے ہندو قوم پرست گروپوں کی آن لائن سرگرمیوں کا سراغ لگایا، سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی نفرت انگیز تقاریر کی تصدیق شدہ ویڈیوز دیکھیں اور میڈیا میں رپورٹ کیے گئے واقعات کا ڈیٹا مرتب کیا۔

دوسری جانب نریندر مودی کی حکومت اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی کی ان رپورٹس کا انکار کرتی آئی ہے اور واشنگٹن میں واقع انڈین سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا، جنہوں نے 2014 میں انڈیا کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔

نریندر مودی کی ہی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو اپنے زیر انتظام کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی آئینی حیثیت منسوخ کردی تھی۔

انڈین آئین کی اس شق کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت کا درجہ حاصل تھا، جس کے تحت ریاست دفاع، امورِ خارجہ، مالیات اور مواصلات کے علاوہ باقی تمام امور میں خود مختار تھی اور انڈین آئین کے دیگر حصوں کا نفاذ ریاستی اسمبلی کے اتفاق ہی سے ممکن تھا۔

اسی طرح اس قانون کے تحت ریاست کے شہریوں کو انڈیا کے دیگر شہریوں سے مختلف حقوق حاصل تھے، جس کی وجہ سے اس آرٹیکل کے تحت ریاست کے شہریوں کے علاوہ کوئی اور شخص یہاں غیر منقولہ جائیداد نہیں خرید سکتا تھا، یہاں نوکری نہیں کر سکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور پر سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔

دوسری جانب کرناٹک میں بی جے پی کے دورِ حکومت میں انڈیا میں غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسلمانوں کی جائیدادوں کو مسمار کرنے اور کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی بھی لگائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں