فرانس میں خواتین کھلاڑیوں کے حجاب پرپابندی، ’یو این‘ کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کے روز اقوام متحدہ نے سیکولرازم کے نام پر فرانس اگلے سال منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں کے دوران فرانسیسی کھلاڑیوں کو حجاب پہننے سے روکنے کے جواب میں خواتین پرلباس کا ضابطہ اخلاق مسلط کرنے یا ان پر پابندی عاید کرنے کی اصولی مخالفت کی تجدید کی ہے۔

ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق کی ترجمان مارٹا ہرٹاڈو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "عام طور پر انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کا خیال ہے کہ کسی کو بھی خواتین کو یہ حکم نہیں دینا چاہیے کہ انہیں کیا پہننا چاہیے یا کیا نہیں پہننا چاہیے۔"انہوں نے یہ بات فرانسیسی وزیر کھیل ایمیلی اوڈیا کاسٹیرا کے حالیہ بیانات کے جواب میں کہے۔

وزیر نے اتوار کو فرانسیسی عوامی چینل "فرانس 3" پر وضاحت کی کہ حکومت "ایک سخت سیکولر نظام کے لیے پرعزم ہے، جس کا سختی سے کھیلوں کے میدان میں اطلاق ہوتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی قسم کی تبلیغ پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ عوامی خدمت کے لیے مکمل غیر جانبداری کا مطلب ہے۔ اس لیے جو لوگ ہمارے وفود کی نمائندگی کرتے ہیں ہماری فرانسیسی ٹیموں میں، حجاب نہیں پہن سکتے۔"

ہرتاڈو نے یاد دلایا کہ خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق کنونشن تمام فریقوں کواس معاملے میں فرانس کو "کمتری یا برتری کے خیال کی بنیاد پر کسی بھی سماجی یا ثقافتی ماڈل میں ترمیم کرنے کے لیے ضروری تمام مناسب اقدامات کرنے کا پابند کرتا ہے۔

یو این عہدیدار نے زور دیا کہ "یہ امتیازی طرز عمل نقصان دہ نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق مذاہب یا عقائد کے اظہار پر پابندیاں، جیسے کہ لباس کا انتخاب، صرف انتہائی مخصوص حالات میں قابل قبول ہے۔

فرانسیسی وزیر نے تسلیم کیا کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی "حجاب پہننے کو مذہبی عنصر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی عنصرکے طور پر سمجھنے پر مبنی منطق کے طور پر دیکھتی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں