چین ایک سال میں 6 سے 8 نئے نیوکلیئر پاور یونٹس کے قیام کی اجازت دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین مستقبل قریب میں ایک سال میں چھے سے آٹھ نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کی اجازت دینے کی توقع رکھتا ہے۔یہ بات چین کی جوہری توانائی تنظیم (نیوکلیئر انرجی ایسوسی ایشن (سی این ای اے) کے ایک عہدہ دار نے بدھ کو ایک بیان میں بتائی ہے۔

چین قابل تجدید توانائی اور گھریلو توانائی کی سلامتی کے حصے کے طور پر اپنے جوہری توانائی کے شعبے کو ترقی دینا چاہتا ہے۔سی این ای اے کا کہنا ہے کہ 2035 تک ملک میں توانائی کی پیداوار میں جوہری ذرائع سے حاصل کردہ بجلی کا حصہ قریباً 10 فی صد اور 2060 تک 18 فی صد ہونے کی توقع ہے اور 2060 تک اس کی کل پیداواری صلاحیت 400 گیگا واٹ ہوگی۔

اگرچہ چین نے قابل تجدید توانائی کے دیگر ذرائع جیسے ہوا اور شمسی توانائی میں تیزی سے اپنی صلاحیت میں اضافہ کیاہے ، لیکن اسے جوہری توانائی کے اپنے اہداف کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی ہے۔

جوہری توانائی سے پیدا کردہ بجلی میں فوسل ایندھن سے چلائے جانے والے پاور پلانٹس کے مقابلے میں کاربن کا اخراج کافی کم ہوتا ہے اور یہ ہوا یا شمسی توانائی جیسے موسم پر منحصر قابل تجدید ذرائع کے مقابلے میں زیادہ مستقل اور قابل اعتماد ہے اوراس سے برقی رو میں تعطل بھی نہیں آسکتا ہے۔

اس سال اگست میں چینی حکام نے تین پلانٹس میں مزید چھے نیوکلیئر پاور یونٹس تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ گذشتہ سال نیوکلیئر پاور منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی۔

چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے آخر تک ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں جوہری توانائی کا حصہ صرف 2.2 فی صد تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں