کویتی اسکیٹ شوٹر نے ایشیائی گیمز میں چوتھا طلائی تمغا جیت لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین میں جاری ایشیائی کھیلوں میں کویت کے عبداللہ الرشیدی نے بدھ کے روز اسکیٹ شوٹنگ میں اپنا چوتھا طلائی تمغا جیت لیا ہے۔60 سالہ الرشیدی کا اپنی جیت کے بعد کہنا ہے کہ ان کے لمبی عمر میں چاق چوبند رہنے اور تیز بینائی کا راز فون اور سوشل میڈیا سے دور رہنا ہے۔

الرشیدی نے شوٹنگ کے فائنل میں 60 اسکور بنا کر عالمی ریکارڈ برابرکیا ہے اور ہانگژو میں جاری ایشیائی کھیلوں میں بھارت کے اننت جیت سنگھ ناروکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کویت کا پہلا طلائی تمغا جیتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عبداللہ الرشیدی کے مدمقابل ناروکا 1998 میں پیدا ہوئے تھے اور اُسی سال تجربہ کار کویتی شوٹر نے اپنا تیسرا عالمی ٹائٹل جیتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ میں چوتھا طلائی تمغا جیت کر خوش ہوں کیونکہ اس وقت میری عمر 60 سال سے زیادہ ہوچکی ہے۔ آج میں نے 110 اہداف میں سے صرف ایک ہدف کو ضائع کیا ہے۔یہ تب ہوتا ہے جب آپ ہر روز کھیلتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، تیراکی کرتے ہیں اور اچھا کھاتے ہیں۔

جب ان سے ان کے تربیتی نظام کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’آپ اپنے جسم کو مضبوط رکھتے ہیں۔ میں فون یا ٹویٹر(اب ایکس) کو نہیں دیکھتا، کیونکہ یہ آپ کی آنکھوں کے لیے اچھا نہیں ہے۔میں اپنے جسم اور اپنی صحت کا خیال رکھتا ہوں۔ میں جلد سو جانے کا عادی ہوں اور جلد علی الصباح اٹھ جاتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں مستقبل کو دیکھنے کے لیے ایک اچھا لیکن مشکل تربیتی پروگرام ترتیب دیتا ہوں‘‘۔

عالمی چیمپیئن شپ اور ایشیائی کھیلوں میں سونے کے تمغے جیتنے کے باوجود اولمپکس میں وہ اس سے محروم رہے ہیں اور ان کا بہترین نتیجہ ریوڈی جنیرو اور ٹوکیواولمپکس میں کانسی کا تمغا تھا۔

الرشیدی کا کہنا ہے کہ 2024 میں پیرس اولمپکس ہونے والے ہیں اورانھیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ میں پیرس میں ہونے والے اگلے اولمپک کھیلوں کے لیے مزید شوٹنگ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ شاید میرے پاس وہاں جانے کا موقع ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان شاءاللہ ہمارے پاس اگلے دو اولمپکس میں شوٹنگ مقابلے میں حصہ لینے کا وقت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں