’’رواں برس نو مئی کے واقعات موجودہ فوجی قیادت کے خلاف بڑے منصوبے کا حصہ تھے‘‘

بھارت دہائیوں سے پاکستان سمیت خطے میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور اب اس کا دائرہ کار یورپ تک جا پہنچا ہے؛ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی پاکستانی ہائی کمیشن میں میڈیا سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

’’پاکستان میں رواں سال نو مئی کو رونما ہونے والے واقعات موجودہ فوجی قیادت کے خلاف ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھے۔ یہ واقعات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی کوشش تھی جس کا مقصد موجود فوجی قیادت کی اتھارٹی کو غیر مؤثر یا کمپرومائز کرنا تھا۔‘‘

ان خیالات کا اظہار نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ مجھے اس تجزیے میں کافی حد تک حقیقت کا پہلو نظر آتا ہے کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ طے شدہ منصوبہ تھا کہ موجودہ عسکری قیادت پر کیسے سمجھوتہ کیا جا سکتا تھا، آنے والے دنوں میں یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو گا تو اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ ایک منصوبہ بنایا گیا تھا۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ میری لندن میں کسی سیاسی رہنما یا سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی ملاقات ہوئی ہے نہ یہاں آنے کا مقصد سیاسی ملاقاتیں کرنا ہے، میں یہاں حکومتی اور ریاستی امور سرانجام دینے کے لیے آیا ہوں۔

ملک میں عام انتخابات کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا اور بہت جلد تاریخ کے بارے میں سن لیں گے اور اس کا اعلان کردیا جائے گا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس وقت نگران حکومت کو کون سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں تو نگران وزیر اعظم نے کہا معیشت اس کے علاوہ ہمیں کوئی چیلنج درپیش نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نواز شریف اور چیئرمین پی ٹی آئی کے معاملات عدالتی فیصلوں اور قانون کے مطابق حل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی پاکستان میں آمد سے متعلق کئی پہلو ہیں، وہ عدالتی اجازت نامے سے بیرون ملک گئے۔ عدالتی فیصلے کے مختلف پہلو دیکھنے ہوں گے، وزارت قانون و انصاف سے رائے لیں گے۔

’’نگران حکومت کی کسی سیاسی جماعت یاگروہ سے کوئی وابستگی نہیں ، قانون کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے جن کے خلاف قانونی کارروائی ہو رہی ہے انہیں عدالتوں سے ہی ریلیف مل سکتا ہے۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا الیکشن پاک فوج کی زیر نگرانی ہوں گے تو انھوں نے واضح جواب دیا کہ انتخابات الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ہوں گے، اس میں معاونت کے لیے نگران حکومت ہوگی جو ہدایات جاری کرے گی، عسکری، نیم عسکری اداروں سمیت جہاں جہاں جس حکومتی ادارے کی ضرورت ہو گی ہم ان کو ہدایات جاری کریں گے کہ انھیں کہاں معاونت کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے ہمارے پاس مقامی اور بین الاقوامی مبصرین ہوں گے، اگر بین الاقوامی اور مقامی مبصرین اور میڈیا، سول سوسائٹی نسبتاً یہ اشاریے دیتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنا کام پورا کر لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں