امریکی ویزا استثنا پروگرام میں اسرائیل کی شمولیت پرماہرین، شہریوں اورتنظیموں کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا کے اسرائیل کو ویزا استثنا پروگرام (وی ڈبلیو پی) میں شامل کرنے کے فیصلے پر انسانی حقوق کے گروپوں، امریکی شہریوں، ماہرین اور قانون سازوں نے تنقید کی ہے اور انھوں نے اسرائیل کے اپنی سرحدوں میں فلسطینی امریکیوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری الیجینڈرو میئرکس نے بدھ کے روز 30 نومبر سے اسرائیلی شہریوں کو 90 دن تک امریکا میں بغیر ویزا سفر کی اجازت ہوگی، جس سے اسرائیل ویزا استثنا پروگرام میں شامل ہونے والا 41 واں ملک بن جائے گا۔مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسرائیل کا سفر کرنے والے امریکیوں کو بھی یہی استحقاق دیا جائے گا۔

امریکی شہریوں اور فلسطینی امریکیوں نے فوری طور پر اس اعلان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فلسطینی امریکیوں کے ساتھ "امتیازی سلوک" جاری رکھے ہوئے ہے۔

واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر جوش روبنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا اسرائیل کو ویزا استثنا پروگرام میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے حالانکہ وہ فلسطینی امریکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور تمام امریکی شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنے کی شرط کا مذاق اڑاتا ہے۔

بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ وی ڈبلیو پی میں اسرائیل کی شمولیت امریکا اسرائیل شراکت داری میں "ایک اہم پیش رفت" کی نمائندگی کرتی ہے۔اس میں لوگوں کے درمیان روابط اور اقتصادی اور سکیورٹی تعاون شامل ہے۔

واشنگٹن میں قائم یروشلم فنڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جہاد ابو سالم نے ایکس پر کہا: "آج بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کو ویزا چھوٹ پروگرام میں داخلے کی اجازت دی ہے جبکہ وہ امریکی شہریوں کے ساتھ ان کی شناخت اور پس منظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرتا ہے۔

ویزا چھوٹ پروگرام کے قواعد کے تحت ممالک کو تمام امریکی مسافروں کے ساتھ مساوی سلوک کرنا ہوگا، قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں پیدا ہوئے ہیں، کہاں رہتے ہیں، یا ان کے پاس کون سا پاسپورٹ ہے۔

وی ڈبلیو پی میں اسرائیل کی شمولیت کے ناقدین نے اس پروگرام میں باہمی تعاون کے فقدان کو اجاگر کیا ہے۔اسرائیل میں تمام امریکی شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جاتا ہے بلکہ اسرائیل فلسطینی امریکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی دفتر برائے فلسطینی امور کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق غزہ میں مقیم فلسطینی امریکیوں کو ایریز کراسنگ کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے اب بھی اجازت نامے کی ضرورت ہوگی اور مغربی کنارے میں رہنے والوں کو’امریکا سیاح کے طورپر منظوری کی ضرورت ہوگی اور اس صورت میں ہی ان کا تل ابیب کے نواح میں واقع بن گورین ہوائی اڈے میں داخلہ ممکن ہوسکے گا اور وہ وہاں سے باہر جاسکیں گے۔

غزہ میں رہنے والے فلسطینی امریکیوں کو اب بھی انخلا کے اجازت نامے کے لیے اسرائیل میں درخواست دینا ہوگی۔ روبنر نے ایکس پر لکھا کہ ’’ویزا فری سفر کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ امریکیوں کو اجازت نامے کے لیے درخواست دینے پر مجبور کیا جائے‘‘۔

جولائی میں امریکا اور اسرائیل نے ایک معاہدے پر دست خط کیے تھے جس میں اس پروگرام میں اسرائیل کے داخلے کی شرائط کا خاکا پیش کیا گیا تھا اور آزمائشی مدت کا اعلان کیا گیا تھا۔اس کے دوران فلسطینی امریکیوں کو اس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے داخلے کی اجازت دی جائے گی۔تاہم متعدد میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایسے کیسوں کی سماعت کے دوران میں عرب نژاد امریکیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہے۔

منگل کے روز امریکی عرب انسدادِ امتیازکمیٹی نے کہا کہ اس نے ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ اور محکمہ خارجہ کے خلاف وفاقی مقدمہ دائر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ اسرائیل اس پروگرام میں داخلے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں 15 ڈیموکریٹک سینیٹروں کے ایک گروپ نے وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اسرائیل کو وی ڈبلیو پی پروگرام میں شامل نہ کریں۔

اس پروگرام میں اسرائیل کی شمولیت کو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ان کے زیرقیادت انتہا پسند مخلوط حکومت کا اس سے قبل ملک میں عدالتی اصلاحات اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سخت اقدامات پر اصرار کی وجہ سے امریکا کے ساتھ تناؤ کا ماحول تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں