برطانیہ: کام سے غیر حاضری دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک نئی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں کام کی جگہوں پر غیر حاضری پورے برطانیہ میں ایک دہائی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پرسنل اینڈ ڈیولپمنٹ (سی آئی پی ڈی) صحت کی ادائیگی کے منصوبے فراہم کرنے والے ادارے ’’ سمپلی ہیلتھ‘‘ کے ساتھ مل کر کمپنیوں سے ایک ایسا کلچر بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو کام کی جگہ پر صحت کے مسائل کو سپورٹ کرے۔

یہ کال ان دونوں اداروں کی جانب سے 918 اداروں میں تقسیم کیے گئے 65 لاکھ ملازمین کی بیماری کی چھٹی اور صحت کی صورتحال کے تجزیہ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ ان دونوں اداروں کو معلوم ہوا کہ ان اداروں کے ملازمین گزشتہ برس اوسطاً 7.8 دن کام سے غیر حاضر رہے۔ کام سے غیر حاضری کے اعتبار سے یہ سال گزشتہ دس سالوں میں سب سے آگے رہا۔ یہ وبائی بیماری کے اوسط 5.8 دنوں سے دو دن زیادہ غیر حاضری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آج قلیل اور طویل مدتی غیرحاضری کا سب سے بڑا سبب تناؤ ہے۔ 76 فیصد افراد نے اپنے جواب میں بتایا کہ گزشتہ برس تناؤ- کی وجہ سے ہی انہوں نے اپنے کام سے چھٹی لی تھی۔

طویل مدتی غیر حاضریوں کی اکثر وجہ ذہنی صحت کی خرابی بنی۔ 63 فیصد ایسی چھٹیوں کے پیچھے ذہنی صحت کی خرابی کار فرما رہی۔ قلیل مدتی غیر حاضریوں کے 94 فیصد کیسز میں نمایاں وجہ معمولی بیماریاں تھیں۔

اس اعداد و شمار کی بنیاد پر بہت سی تنظیموں نے اب صحت اور بہبود کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ ان کمپنیوں کی خدمات میں 69 فیصد کمپنیوں میں تمام ملازمین کے لیے تنخواہ کے ساتھ چوٹ کی چھٹی کا منصوبہ شامل ہے۔ اسی طرح 82 فیصد کمپنیوں کے ملازمین کی مدد کا منصوبہ اور 53 فیصد کمپنیوں میں فلاح و بہبود کی حکمت عملی لانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

حالیہ رپورٹ کے تناظر میں چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پرسنل اینڈ ڈویلپمنٹ اور سمپلی ہیلتھ نے مزید تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاتر کو کھلے اور معاون ماحول میں تبدیل کریں جو ملازمین کو اپنے براہ راست مینیجرز سے صحت کے مسائل کے بارے میں بات کرنے کی اجازت دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں