مصرمیں یونیورسٹی کی ملازمہ شادی سے انکار پرقتل،مقتولہ کو کئی سال تک ڈرایا دھمکایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں شادی سے انکار پر ایک اور لڑکی کوگولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ یہ گھناؤنا جرم قاہرہ یونیورسٹی میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ایک ملازمہ نورھان حسین مہران کا قتل ہے جسے اسی یونیورسٹی کے ایک سابق ملازم احمد نے شادی سے انکار پر گولیاں مار کر قتل کردیا۔

اس واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں جن سے پتا چلا ہے کہ ملزم نے نورھان کو کئی سال سے تنگ کررکھا تھا۔ وہ شادی سے انکار کا فیصلہ واپس لینے کے لیے دھمکیاں دیتا۔ پانچ سال قبل ملزم نے نورھان کی گاڑی کو آتش گیر مواد چھڑک کر آگ لگا دی تھی جس کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا اور اسے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مصری میڈیا میں آنے والی معلومات کےمطابق مقتولہ ملازمہ نورھان حسین مہران قاہرہ کی رہائشی ہیں اور وہ قاہرہ یونیورسٹی کے آرکیالوجی شعبے میں ملازمہ تھی۔ اس کی عمر 32 سال تھی۔

برسوں پہلے 35 سالہ احمد نامی مجرم نے اس سے رابطہ کیا۔ وہ کالج آف ایگریکلچر میں یوتھ کیئر اسپیشلسٹ کے طور پر کام کرتھا ہے۔ اس نے نورھان کو شادی کی تجویز پیش کی جو اس نے مسترد کردی اور انکار کی وجوہات بھی بیان کیں۔ مگر ملزم اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔

تفتیش کے مطابق ملزم نے 5 سال قبل مقتولہ کی گاڑی کو آگ لگا دی تھی اور اس کے فون پر اسے دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجتا رہتا تھا جس کی وجہ سے نورہان نے پولیس کو شکایت کی۔ ملزم کوگرفتار کرکے اسے سزا سنائی گئی۔

عینی شاہدین کے بیان کے مطابق ملزم بدھ کی صبح یونیورسٹی گیا، پھر سٹوڈنٹ افیئرز کے دفتر گیا جہاں مقتولہ خاتون کام کرتی تھی۔ اس نے آتشیں اسلحہ نکال کر اس پر 6 گولیاں چلائیں، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا اور ملزم فرار ہو گیا۔

معلومات کے مطابق ملزم نے انتہائی قریب سے نورھان پر گولیاں چلائیں۔

واقعے کے بعد پولیس موقعے پرپہنچ گئی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہےہیں۔ دوسری طرف مصری پراسیکیوشن نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں