سعودی عرب

ویژن 2030 مملکت میں تبدیلی کا لمحہ ،اسرائیل سے امن جلد حقیقت بن سکتا ہے:شہزادی ریما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

واشنگٹن میں الریاض کی سفیرشہزادی ریما بنت بندر نے اس ہفتے سعودی عرب کے ترانویں قومی دن کے موقع پرامریکا کے ساتھ مملکت کے تعلقات کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ’’ویژن 2030 میرے ملک کے لیے تبدیلی کا لمحہ ہے‘‘۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن جلد ہی حقیقت بن سکتا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں ہونے والا امن معاہدہ ہرروز قریب آ رہا ہے۔

شہزادی ریما نے اس تناظر میں منگل کو واشنگٹن میں اپنے سفارت خانہ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب میں کہا کہ سعودی عرب کو یقین ہے کہ ’’ہم پہلے سے کہیں زیادہ امن کے قریب ہو سکتے ہیں۔امن ایسا ہی نظر آئے گا جس کی ہم خواہش کرتے ہیں، امید کرتے ہیں اورجس کا خواب دیکھتے ہیں‘‘۔

سعودی عرب نے یہ شرط عاید کی ہے کہ اسرائیل کو تعلقات کو معمول پرلانے کے بدلے میں فلسطینیوں کو کچھ رعایتیں دینا ہوں گی۔ شہزادی ریما نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کو امید کے ایک لمحے کی ضرورت ہے اور یہ معاہدہ ابراہیم (ابراہام) سے پیدا ہوا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے سابق ٹرمپ انتظامیہ کے دورمیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تاریخی امن معاہدوں پر دست خط کیے تھے۔ سوڈان اور مراکش نے بعد میں اس کی پیروی کی اوراس معاہدے پر دست خط کیے تھے جو اب ’معاہدہ ابراہام‘ کے نام سے معروف ہے۔

لیکن سعودی عرب اپنا الگ معاہدہ تیار کر رہا ہے، جس سے اسے امید ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ ایک باضابطہ سکیورٹی معاہدے کے ساتھ ساتھ اس کے سویلین جوہری پروگرام کے لیے امریکا کی حمایت کا بھی تعیّن کیا جائے گا۔

شہزادی ریما نے کہا کہ دنیا کے کونے کونے میں امن اور خوش حالی لانے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنا ہماری ذمے داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ امریکا کی جانب سے ہمارے لیے ہمیشہ موجود رہنے کا مطالبہ بہت بڑا ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہاں امریکا کے ساتھ دوستی میں کھڑے ہونے پر فخر ہے‘‘۔

سعودی عرب کے ویژن 2030 پر روشنی ڈالتے ہوئے شہزادی ریما نے کہا:’’یہ میرے ملک کے لیے تبدیلی کا لمحہ ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو ہمیں باقی دنیا کے ساتھ اکٹھا کرتا ہے‘‘۔

امکانات کا 'واضح' احساس

تقریب میں امریکی حکومت کی جانب سے بات کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ایک سینیرعہدہ دار نے سعودی عرب میں جاری تبدیلی کے عمل کی تعریف کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے جزیرہ نما عرب کے امور کے نائب معاون وزیر ڈینیئل بینیم نے کہا کہ ’’صرف امکانات اورحرکت پذیری کا احساس ہے جو واضح اور ناقابل یقین حد تک اہم ہے کیونکہ سعودی عرب نے ایسی سماجی تبدیلیاں لائی ہیں جن کی وسعت اور گنجائش کے اعتبار سے مثال نہیں ملتی‘‘۔

بینیم نے ان دروازوں کی طرف اشارہ کیا جو سعودی خواتین کے لیے عوامی زندگی میں حصہ لینے کے لیے کھلے ہیں اوران کے معاشرے میں سعودی نوجوانوں کے شانہ بشانہ کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اقتصادی طور پر بینیم نے دونوں ممالک کے درمیان 47 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ اس سے دونوں ممالک میں ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’لیکن حقیقت میں، یہ صرف وہ چیزیں نہیں،جو ہم نے ماضی میں کی ہیں بلکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم مستقبل میں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں پر بھروسا نہیں کر رہے ہیں‘‘۔انھوں نے سعودی عرب میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع لوسیڈ موٹر کے ای وی مینوفیکچرنگ پلانٹ کے حالیہ افتتاح کی طرف بھی اشارہ کیا۔

امریکی سفارت کار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مزید امریکی طلبہ کو سعودی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے اور ڈگریاں حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں