افغانستان نے بھارت میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا، سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل

بھارت میں تعینات افغان سفیر اور سینئیر سفارت کاروں نے امریکہ، یورپ میں سیاسی پناہ لے لی، سفارت خانہ بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت میں افغان سفارت خانے میں تعینات سفیر اور دیگر سینئیر سفارت کاروں نے یورپ اور امریکہ میں سیاسی پناہ لے لی اور بھارت چھوڑ دیا ہے جس کے بعد نئی دہلی میں افغان سفارت خانے نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

افغانستان نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنا سفارت خانہ بند کر کے اپنی سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیں۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں کام کرنے والے افغان سفارت خانے نے ہندوستانی وزارت خارجہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے سفارت خانے کی طرف سے اس ہفتے بھارتی وزارت خارجہ کو ایک غیر دستخط شدہ خط (Note Verbale) بھیجا گیا تھا جس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ سفارت خانے کو ستمبر کے اواخر تک بند کر دیا جائے گا۔

اس خط میں بالخصوص اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ متعدد درخواستوں کے باوجود نئی دہلی نے نہ تو کسی طرح کا تعاون کیا اور نہ ہی ان تقریباً 3000 افغان طلباء کو ویزے جاری کرنے میں مدد کی جنہیں سن 2021 میں بھارت کا سفر کرنا تھا لیکن ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جون 2022 میں بھارت کے کابل میں اپنا مشن کھولنے کے بعد، سابقہ اسلامیہ جمہوریہ افغانستان سے وفاداری کا عہد کرنے والے افغان سفارت خانے کو"سفارتی احترام اور دوستانہ اہمیت" نہیں دی گئی۔

اس' نوٹ ورویل' میں بھارت سے سفارتی تعلقات کے متعلق ویانا کنونشن کے پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے بھارت میں افغانستان کے اثاثوں اور انڈیا افغانستان فنڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے کہا گیا ہے اور بقیہ سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ایگزٹ پرمٹ کے ذریعہ بھارت سے جانے کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ادھر سابق افغان حکومت کے سفارت کاروں نے سفارت خانہ چھوڑ دیا ہے اور سابق سفیر اور دیگر سفارت کاروں کو امریکا اور یورپ منتقل کر دیا گیا ہے۔ا۔

نئی دہلی میں تعینات افغان سفیر فرید مامون زادہ اس وقت برطانوی دارالحکومت لندن میں ہیں، سفارت خانے کے عملے کے درمیان اندرونی تنازعات ہیں جبکہ سفارت کاروں کے سیاسی پناہ حاصل کر کے تیسرے ملک چلے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق افغان اشرف غنی کی حکومت نے مامون زادہ کو بھارت میں بطور سفیر تعینات کیا تھا، اور انہوں نے 2021 تک افغانستان کی طالبان عبوری حکومت زیر کنٹرول سفارتی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔

یاد رہے رواں سال اپریل اور مئی میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ طالبان حکومت نے مامون زاد کی جگہ ایک چارج ڈی افیئرز کو بھارت میں سفارتی مشن کی سربراہی کے لئے مقرر کیا ہے۔

نئی دہلی کے افغان سفارت خانے نے خط میں بھارتی وزارت خارجہ سے مشن کی عمارت پر افغانستان کا ترنگا پرچم لہرانے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ پرچم افغانستان کی اس جمہوری حکومت کی نمائندگی کرتا ہے جسے طالبان حکومت نے معزول کردیا تھا اور جسے ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے تاہم اس خط کے متعلق خبروں پر سرکاری طورپر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس خط کی "صداقت" کی جانچ کی جا رہی ہے کیونکہ سفیر اور سفارت کار مبینہ طور پر کسی تیسرے ملک کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ افغان سفارت خانے میں جاری رسہ کشی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں جون میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا، "ہمارے نقطہ نظر سے یہ افغان سفارت خانے کا اندرونی معاملہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اسے اپنے طورپر حل کر لیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں