امریکی کانگریس کی سماعت غیر منصفانہ اور گمراہ کن ہے: فلسطینیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فلسطینی حکام نے جمعرات کو رام اللہ میں امریکی کانگریس کی ایک سماعت، جس میں فلسطینی اتھارٹی پر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کے خلاف تشدد کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا کو "گمراہ کن اور غیر منصفانہ" قرار دیا ہے۔

امریکی کانگریس میں بدھ کو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا سے متعلق ایوان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کی سماعت میں شرکت کے لیے صرف اسرائیل کے حامیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس سماعت میں 2018 کے قانون " ٹیلر فورس ایکٹ "کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا گیا جو اس بنیاد پر کہ فلسطینی اتھارٹی "اسرائیلی شہریوں کو قتل کرنے پر فلسطینیوں کو انعام دیتی ہے"ا مریکی مالی امداد کی فراہمی پر پابندی لگاتا ہے۔

فلسطینی حکام نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے منتظمین نے انہیں ان کا موقف پیش کرنے کے لیے مدعو نہیں کیا اور ایسا کرنے سے اسرائیل کے حق میں ان کے "تعصب" اور کانگریس کے کچھ اراکین کے فلسطین مخالف جذبات کا انکشاف ہوتا ہے۔

سماعت کی قیادت ایوان نمائندگان کے ریپبلکن رکن جو ولسن نے کی جو ذیلی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے فلسطینی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ "قتل کرنے کے لیے تنخواہ" کا نظام چلا رہی ہے، جس میں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کو مارنے پر انعام دیا جاتا ہے۔
تاہم، میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی فلسطینی حکام نے سختی سے تردید کی ہے۔

ایلیٹ ابرامس، جو اسرائیل کے حامی سابق صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کے مشیر ہیں، اور ذیلی کمیٹی کے کئی دیگر ارکان نے بھی فلسطینی اتھارٹی پر ایسے نظام میں حصہ لینے کا الزام لگایا جو "دہشت گردوں کو عزت اور انعام دیتا ہے۔" دائیں بازو کی، اسرائیل نواز امریکی تنظیموں کے کئی نمائندوں نے جنہوں نے سماعت کے دوران بات کی، اسی طرح کے دعوے کیے اور امریکی صدر جو بائیڈن سے فلسطینیوں کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ کیا۔

فلسطینی حکام نے کہا کہ اس طرح کے الزامات "مکمل طور پر غلط" اور "گمراہ کن" ہیں۔ اسیران کے امور کے فلسطینی وزیر قدورہ فارس نے عرب نیوز کو بتایا کہ اس طرح کی امریکی سماعتیں اسرائیل اور اس کے امریکہ میں حامیوں کو ہی فلسطینیوں یا ان کے مسائل سے متعلق معلومات کا واحد ذریعہ تصور کرتی ہیں۔

انہوں نے سماعت کو "گمراہ کن اور یک طرفہ" قرار دیا کیونکہ فلسطینیوں کو کہانی کا رخ پیش کرنے کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ان سے مشورہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ توازن اور انصاف کے مفاد میں ذیلی کمیٹی کو فلسطینی حکام یا ان کے نمائندوں کو شرکت کے لیے کہنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے والے یا قید کیے گئے لوگوں کے خاندانوں کو فلاحی ادائیگی کا نظام ہے، جو فلسطینی قانون کے مطابق کام کرتا ہے، جس کے تحت حکومت ان خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی پابند ہےجو ایک قابض ریاست کے طور پر اسرائیل کے اقدامات کے نتیجے میں اپنا کمانے والا کھو دیتے ہیں۔"

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ایک سینیئر اہلکار واصل ابو یوسف نے کہا کہ یکے بعد دیگرے امریکی انتظامیہ اور کانگریس دونوں فریقین کے امن و سلامتی کی حمایت کرنے کے بجائے اکثر "فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جرائم کو چھپانے" میں مصروف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں "اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شہداء اور قیدیوں کے اہل خانہ کی مالی اور اخلاقی مدد کے معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا"۔

ابو یوسف کے مطابق اس سال اب تک اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 260 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور گذشتہ برس تقریباً 220 ہلاک ہوئے تھے۔

قدورہ فارس، جس کی وزارت اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کے اہل خانہ کی مدد کرتی ہے، نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 5,200 فلسطینی قیدی ہیں، جن میں تقریباً 1,200 انتظامی قیدی ہیں جنہیں بغیر کسی الزام یا مقدمے کے رکھا جا رہا ہے، اور 18 سال سے کم عمر کے 170 بچے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام ہر سال ہزاروں فلسطینیوں کو غیر متشدد کارروائیوں جیسے فلسطینی پرچم بلند کرنے، مظاہروں میں حصہ لینے یا کالج کے کیمپس میں سیاسی سرگرمی کی وجہ سے قید کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں میں سے 10 فیصد، جن کی کل تعداد تقریباً 500 ہے، اسرائیلی جیلوں میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر اسرائیلی شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے جرم میں سزا دی گئی۔

فلسطینی قانون کے مطابق، ان لوگوں کے خاندانوں کو تکلیف نہیں اٹھانی چاہیے، ان کواپنے رشتہ داروں کے جرائم کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے یا حکومت کی طرف سے فراہم کردہ سماجی معاونت کی خدمات سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔

الفتح کے ایک سینیئر اہلکار جبریل رجب نے کہا کہ شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کے لیے فلسطینیوں کی حمایت کا مسئلہ اسی وقت ختم ہو گا جب فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ ختم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان صرف اسرائیلی قبضے کو جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہیں، فریقین کے درمیان مساوی امن کی نہیں۔

"یہ مسئلہ فلسطینی عوام کے لیے بہت حساس ہے کیونکہ یہ ان کے وجود اور اپنے ملک کو آزاد کرانے اور اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے کے لیے ان کی جدوجہد کو سے تعلق رکھتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں