فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان مشتعل بھارتی ریاست میں ہجوم کا وزیرِاعلیٰ کے گھر پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہزاروں مظاہرین نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکار بھارتی ریاست کے وزیرِ اعلیٰ کے گھر پر یلغار کرنے کی کوشش کی؛ جس کے بعد نظم وضبط برقرار رکھنے کی خاطر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی اضافی نفری طلب کی جا رہی ہے۔

شمال مشرقی ریاست منی پور میں مئی میں اکثریتی ہندو میتی اور بنیادی طور پر عیسائی کوکی برادری کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گیا تھا جس کے بعد سے اب تک 150 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

میتی برادری کے افراد حالیہ دنوں میں اپنی کمیونٹی کے دو مقتول طلبہ کی تصاویر سے مشتعل ہیں جو جولائی میں لاپتہ ہو گئے تھے۔

ریاستی دارالحکومت امپھال کے رہائشیوں نے وزیرِ اعلیٰ این بیرن سنگھ کے خاندانی گھر کے قریب احتجاج کرنے کے لئے حفاظتی بندش اور کرفیو کی خلاف ورزی کی۔

وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہزاروں لوگوں" نے رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی، اور پولیس نے "طاقت کا استعمال" کرتے ہوئے انہیں وہاں پہنچنے سے روکا۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ جاری تھی لیکن وہ کسی جانی نقصان کی تصدیق کرنے سے قاصر تھا۔

وزیرِاعلیٰ کے دفتر نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے فوج سے کمک بھیجنے کی اپیل کی تھی جو "ہر طرف سے آ رہا تھا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں علاقے کے نمائندے کے گھر کو بھی نشانہ بنایا۔

حکام نے مظاہرین کی حدِ نگاہ کو کم کرنے کے لیے علاقے کی بجلی منقطع کر دی اور نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے کئی گولے فائر کیے۔

منی پور پولیس نے کہا کہ "کافی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے"۔

این برین سنگھ ہندوستان کی حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن ہیں اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ریاست میں تشدد کے خاتمے میں ان کی انتظامیہ کی ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں طلبہ کے زخمی ہونے کے بعد حکام نے رواں ہفتے امپھال میں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

انٹرنیٹ پر تقریباً پانچ ماہ سے جاری پابندی گذشتہ ہفتے ہٹا دی گئی تھی لیکن منگل کے آخر میں دوبارہ نافذ کر دی گئی۔

ہیومن رائٹس واچ نے منی پور کے حکام پر الزام لگایا ہے کہ وہ "ہندو اکثریت پسندی کو فروغ دینے والی تقسیم پسند پالیسیوں" سے تنازعہ کو شہہ دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں