بھارت:2000 روپے کے نوٹوں کی واپسی تاریخ میں توسیع، 1.7 ارب ڈالرمالیت کی کرنسی غائب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کے مرکزی بینک نے ملک کے سب سے زیادہ مالیت کے بینک نوٹوں کی واپسی کی تاریخ میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے 19 مئی کو 2000 روپے کے نوٹ کو واپس لینے کا حکم دیا تھا، جس میں لوگوں کو ستمبر کے آخر تک ملک بھر کے بینکوں میں 35 کھرب 60 کروڑ روپے (42.9 بلین ڈالر) کو تبدیل کرنے یا جمع کرنے کا وقت دیا گیا تھا۔

مرکزی بینک نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ تک 140 ارب روپے (1.7 ارب ڈالر) مالیت کے نوٹوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

آر بی آئی نے کہا:’’چونکہ رقم نکالنے کے عمل کے لیے متعیّن مدت ختم ہو گئی ہے اور جائزہ کی بنیاد پر 2000 بینک نوٹوں کو جمع کرنے یا تبدیل کرنے کے موجودہ انتظام کو 07 اکتوبر 2023 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔

آٹھ اکتوبر سے بینک ان نوٹوں کو قبول نہیں کریں گے، لیکن آر بی آئی کے 19 دفاتر میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 10 یا 20،000 روپے تک ان کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لوگ آر بی آئی کے دفاتر میں بھی نوٹ واپس کر سکتے ہیں اور اپنے بینک کھاتوں میں کسی بھی مالیت کے نوٹ جمع کراسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نومبر 2016ء میں راتوں رات 1000 اور 500 روپے کے نوٹوں کو قانونی ٹینڈر کے طور پر ہٹانے کا حیران کن فیصلہ کیا تھا۔اس کے بعد معیشت کو تیزی سے بحال کرنے کے لیے سب سے زیادہ قیمت کا نوٹ متعارف کرایا گیا تھا۔ مرکزی بینک نے مئی کے نوٹس میں کہا تھا کہ دوہزار روپے کے کرنسی نوٹوں نے اپنا مقصد پورا کر لیا ہے اور ہر چار سے پانچ سال بعد بلوں کو تبدیل کرنے کی کلین نوٹ پالیسی کے مطابق انھیں واپس لیا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں