ترک صدر رجب طیب ایردوآن یورپی یونین پر برس پڑے

یورپی یونین کے سب مطالبے مانے اب کوئی مطالبہ نہیں مانیں گے: ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے یورپی یونین کے بارے میں سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ صدر ایردوآن انکے بقول ترکیہ نے یورپی یونین کی تمام شرائط اور مطالبات پورے کیے مگر یورپی یونین نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ صدر نے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس سے قبل خطاب کے دوران کیا ہے۔

خیال رہے ترکیہ کے صدر کی طرف سے یورپی یونین کے بارے میں اس غصے اور مایوسی کا اظہار ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کی عدالت نے ایک ترک ٹیچر کے حوالے سے انسانی حقوق کا مدعا اٹھایا ہے اور ترکیہ کو ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کی عدالت کا یہ فیصلہ جمعرات کے روز سامنے آیا تھا۔

یورپی یونین کی عدالت نے ایک استاد کو 2016 کی ایردوآن مخالف ناکام بغاوت کے سلسلے میں سزا دیے جانے پر فیصلہ دیا۔ واضح رہے ترک ٹیچر کو میسجنگ کے لیے ایک خفیہ ایپ ڈاون لوڈ کرنے کی پاداش میں سزا سنائی گئی تھی۔ یورپی عدالت کی طرف سے یہ فیصلہ اسٹراسبرگ کی عدالت میں ایسے ہزاروں مقدمات کے لیے ایک نظیر بن سکتا ہے۔

طیب ایردوآن نے اپنے غم وغصے سے بھرے خطاب میں کہا ' یورپی یونین کی رکنیت لینے کے لیے ترکیہ کسی بھی نئے مطالبے اور شرط کو قبول کرے گا نہ برداشت ۔ ان کا کہنا تھا کہ چالیس سال تک ترکیہ یورپی یونین کے دروازے پر رکنیت کے انتظار میں بیٹھا رہا ہے۔ لیکن اب مزید توقعات نہیں کی جائیں گی۔

یاد رہے ترکیہ کی طرف سے ایک مذہبی مبلغ فتح اللہ گولین پر الزام لگایا جاتا ہے کہ دوہزار سولہ کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے ان کا کردار تھا۔ اب جس ٹیچر یوکسل یالسنکے کو ترکیہ میں عتاب کا نشانہ بننا پڑا ہے ان پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے خفیہ ایپ ڈاون لوڈ کر کے بغاوت میں رابطہ کاری کی کوشش کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں