پانی پھینکا اور بہیمانہ تشدد، آرمینیائی باشندوں کا امریکہ میں ترک سفیر پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازع میں انقرہ کے باکو کے حامی موقف کی وجہ سے امریکہ میں ترکیہ کے سفیر پر آرمینیائی باشندوں کے ایک گروپ نے حملہ کردیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک کانفرنس میں شرکت کر رہے تھے کہ نوجوانوں کے ایک گروپ نے ان کا پیچھا کیا۔ ان پر پانی پھینکا اور اس کے گرد جمع ہو کر ان پر حملہ کردیا اور انہیں مارا پیٹا۔ تاہم ترک سفیر اپنی مدد آپ کے تحت فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دریں اثنا یو ایس ڈپلومیٹک سیکیورٹی یونٹ اور لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کیمپس میں ایسے واقعات کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مداخلت کی اور ضروری حفاظتی اقدامات اٹھائے۔

اپنی طرف سے ترک وزارت خارجہ نے جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں منعقد ترک پبلک ڈپلومیسی کانفرنس کے شرکا پر آرمینیائی گروپوں کے حملے کی مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے عہدیدار جنہوں نے 29 ستمبر 2023 کو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں اینابرگ سکول آف جرنلزم اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام پبلک ڈپلومیسی کانفرنس میں شرکت کی تھی انہیں آرمینیائی انتہا پسند گروپوں نے نشانہ بنایا اور انہیں زبانی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا ہے۔

ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا انتہا پسند تارکین وطن گروپوں کی طرف سے نفرت کی زبان استعمال کی گئی جس میں ترکیہ، آذربائیجان اور حال ہی میں آرمینیائی حکومت اور خطے میں امن عمل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے حملے میں حصہ لینے والوں کے خلاف ضروری قانونی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کی۔

واضح رہے ترکیہ جو سابق سوویت قفقاز کے علاقے اور وسطی ایشیا میں جغرافیائی عزائم رکھتا ہے نے ترکی بولنے والے اور تیل کی دولت سے مالا مال آذربائیجان کو خطے میں اپنا اہم اتحادی بنایا ہے۔ آرمینیا کے خلاف مشترکہ نفرت کی وجہ سے دونوں ملکوں کی دوستی مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں