تہران سب وے پر اخلاقی پولیس سے مدبھڑ میں ایرانی دوشیزہ حواس کھو بیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران سب وے میں ایک سولہ سالہ دوشیزہ خود پر ہونے والے حملے کے بعد حواس کھو بیٹھی۔ مضروبہ کا علاج انتہائی سکیورٹی میں ایک مقامی ہسپتال میں جاری ہے۔

کرد شناخت رکھنے والے ’’ہینگا‘‘ نامی انسانی حقوق کی انجمن نے بتایا ارمیتا گارواند پر تہران میٹرو میں زنامہ اخلاقی پولیس کی اہلکاروں کی مدبھڑ ہوئی جس میں اسے گہرے زخم آئے۔

ایران حکام نے انسانی حقوق کی تنظیم کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارمیتا فشار خون میں اچانک کمی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئیں، جس کے باعث اسے ہسپتال داخل کروانا پڑا، اس میں خواتین اخلاقی پولیس کا قطعا کوئی کردار نہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس مہسا امینی نامی دوشیزہ کی بھی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد ملک گیر مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جس میں متعدد افراد ہلاک وزخمی ہوئے۔ مہسا پر الزام تھا کہ اس نے ایران میں مروجہ معیار کے مطابق لباس زیب تن نہیں کر رکھا تھا۔

ہینگا کے بقول گارواند کو تہران میں شوہادا میٹرو سٹیشن پر خواتین اخلاقی پولیس کی اہلکاروں نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس دوران وہ زخمی ہوئیں۔ یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں